Screenshot_2026_0310_023538

تحریر : خانزادہ راشیل علی

پاکستان میں احتساب کا نظام ہمیشہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ عوام کی بڑی خواہش یہ رہی ہے کہ قومی دولت لوٹنے والوں کا مؤثر احتساب ہو اور لوٹی گئی رقم واپس قومی خزانے میں آئے۔ ایسے ماحول میں جب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی قیادت سنبھالی تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ادارے پر عوامی اعتماد بحال کرنا اور عملی نتائج دینا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کا شمار پاکستان آرمی کے ان افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں نظم و ضبط، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کی مثال قائم کی۔ انہوں نے 1983 میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور مختلف اہم کمانڈ اور اسٹاف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ، پشاور میں کور کمانڈر اور جنرل ہیڈکوارٹرز میں انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے۔

فوجی خدمات کے علاوہ انہوں نے قومی سطح پر کئی اہم ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ وہ سابق وزرائے اعظم کے ملٹری سیکریٹری رہے، امریکہ میں پاکستان کے ملٹری اتاشی کے طور پر سفارتی خدمات انجام دیں اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر بھی رہے۔ ان تمام ذمہ داریوں میں انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انتظامی تجربے کی واضح مثال پیش کی۔

مارچ 2023 میں جب انہیں قومی احتساب بیورو کا چیئرمین مقرر کیا گیا تو ادارہ کئی تنازعات اور مشکلات کا شکار تھا۔ ان کی قیادت میں نیب میں اصلاحات، ڈیجیٹل نظام اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کا سب سے نمایاں نتیجہ قومی دولت کی ریکوری کی صورت میں سامنے آیا۔

نیب کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق ان کی قیادت میں ادارے نے ریکارڈ ریکوری حاصل کی۔ صرف ایک سال کے دوران تقریباً 3.8 ٹریلین روپے کی ریکوری کی گئی جو ادارے کی تاریخ میں ایک بڑا سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ (The Nation)

بعد ازاں جاری ہونے والی کارکردگی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران نیب نے 6.213 ٹریلین روپے کی ریکارڈ ریکوری کی جو 1999 میں ادارے کے قیام کے بعد کسی ایک سال میں سب سے بڑی رقم تھی۔ (Pakistan Today)

اگر مجموعی کارکردگی کو دیکھا جائے تو مارچ 2023 سے دسمبر 2025 تک نیب نے تقریباً 11.5 ٹریلین روپے کی براہ راست اور بالواسطہ ریکوری کی۔ یہ رقم تقریباً 41 ارب ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ (Profit by Pakistan Today)

ان ریکوریوں میں بڑی مقدار سرکاری زمین کی واپسی، مالیاتی فراڈ کے متاثرین کو رقم کی ادائیگی اور مختلف اسکینڈلز میں لوٹی گئی رقوم کی واپسی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاکھوں ایکڑ سرکاری زمین بھی واگزار کروائی گئی جس کی مالیت کھربوں روپے بتائی جاتی ہے۔ (Profit by Pakistan Today)

یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ نیب نے ہزاروں متاثرین کو ان کی رقوم واپس دلائیں۔ مختلف ہاؤسنگ اسکیموں اور مالیاتی فراڈ کے کیسز میں اربوں روپے متاثرین میں تقسیم کیے گئے تاکہ عام شہریوں کو انصاف مل سکے۔ (Profit by Pakistan Today)

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کی قیادت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے احتساب کے عمل کو زیادہ منظم اور شفاف بنانے پر زور دیا۔ نیب میں شکایات کے نظام کو بہتر بنایا گیا اور بے بنیاد شکایات میں نمایاں کمی آئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق ماہانہ جھوٹی شکایات کی تعداد تقریباً چار ہزار سے کم ہو کر چار سو رہ گئی۔ (Pakistan Times)

ان کی شخصیت کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک منصف اور اصول پسند افسر ہیں۔ انہوں نے جہاں بھی خدمات انجام دیں وہاں اپنی دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کے اثرات چھوڑے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں نیب کی کارکردگی کو بعض حلقوں میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں ان کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع بھی دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو کئی مبصرین ان کی کارکردگی اور تجربے کا اعتراف قرار دیتے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آئندہ برسوں میں بھی احتسابی عمل کو مزید مؤثر بنانے اور قومی وسائل کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ ان افسران میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں دیانت، نظم و ضبط اور قومی مفاد کو مقدم رکھا۔ اگر اداروں کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھ میں ہو جو ایمانداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت رکھتے ہوں تو احتساب کا نظام مضبوط ہو سکتا ہے اور قومی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں صحت، عزت اور مزید کامیابی عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت جاری رکھ سکیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے