Screenshot_2026_0310_015912

ملک بھر میں پرانے اور قرقہ کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کے عمل میں نیشنل بینک آف پاکستان سے جڑا ایک بڑا اسکینڈل منظر عام پر آگیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے بینک انتظامیہ سے گزشتہ 5 برس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جس میں یہ تفصیلات مانگی گئی ہیں کہ اس عرصے کے دوران کن افسران کی تعیناتی رہی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایس او پیز کیا ہیں، ملک بھر میں کتنے مقامات پر پرانے یا قرقہ کرنسی نوٹ وصول کیے جاتے ہیں، جمع کروائے جانے والے نوٹوں کی درست تعداد کا تعین کس طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے اور ان نوٹوں میں سے کتنے جعلی نوٹ پکڑے گئے۔

تحقیقات کے سلسلے میں ایف آئی اے نے نیشنل بینک آف پاکستان کے ہیڈ آف کمپلائنس کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے گزشتہ پانچ برس کے دوران مختلف بینکوں کی جانب سے جمع کروائے جانے والے پرانے اور قرقہ کرنسی نوٹوں کی مالیت، ان کے محفوظ رکھنے کے مقامات، اور اس کے عوض نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کے طریقہ کار کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

نوٹس میں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ بینک فوری طور پر ایک فوکل پرسن مقرر کرے تاکہ تحقیقات کے دوران ریکارڈ کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

دستاویزی شواہد کے مطابق 19 نومبر 2024 کو شیخوپورہ ریجن میں حافظ آباد کی نیشنل بینک آف پاکستان کی برانچ میں حبیب بینک آف پاکستان کی جانب سے 20 کروڑ روپے مالیت کے پرانے اور قرقہ کرنسی نوٹ جمع کروائے گئے تھے۔ بعد ازاں جب ان نوٹوں کی جانچ پڑتال کی گئی تو ان میں سے 20 لاکھ روپے مالیت کے جعلی کرنسی نوٹ برآمد ہوئے۔ اس سنگین بے ضابطگی پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قانون کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان پر 100 فیصد جرمانہ عائد کیا تھا۔

اس پر نیشنل بینک آف پاکستان نے موقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ کرنسی نوٹ دراصل حبیب بینک سے جمع کروائے گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اسی تناظر میں ایف آئی اے میں انکوائری نمبر 26/2026 درج کر کے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نیشنل بینک آف پاکستان کو نوٹس ارسال کیا جا چکا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیشنل بینک آف پاکستان کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ملک بھر کی مختلف برانچوں میں جمع ہونے والی پرانے یا قرقہ کرنسی کو اسٹور کرے اور اس کا مکمل ریکارڈ اسٹیٹ بینک کو فراہم کرے تاکہ اس کے عوض متعلقہ بینکوں کو نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جا سکیں۔

تاہم ذرائع کے مطابق ان کرنسی نوٹوں کی گنتی کا عمل انتہائی پیچیدہ اور حساس مرحلہ ہوتا ہے۔ مختلف بینکوں سے آنے والے نوٹ عام طور پر پیکٹس کی صورت میں جمع کروائے جاتے ہیں اور ان پیکٹس کی گنتی ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ بعد ازاں یہ پیکٹس نیشنل بینک کے اعلان کردہ والٹس میں جمع کرا دیے جاتے ہیں۔

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ گزشتہ برس نیشنل بینک کے والٹس میں کچھ ایسے پیکٹس بھی جمع ہوئے جو پانچ ہزار روپے کے نوٹوں پر مشتمل تھے، تاہم ان کی تعداد معمول سے کم تھی جبکہ اس کے عوض اسٹیٹ بینک سے پیکٹس کی بنیاد پر رقم جاری کی گئی۔

واضح رہے کہ اصول کے مطابق جس مالیت کی پرانی یا قرقہ کرنسی بینک سے جمع ہوتی ہے، اسی مالیت کی نئی کرنسی اسٹیٹ بینک آف پاکستان جاری کرتا ہے اور اس کی تصدیق نیشنل بینک آف پاکستان سے لی جاتی ہے۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں جاری اس حساس تحقیقات میں صرف نیشنل بینک آف پاکستان ہی نہیں بلکہ نجی بینکوں کی انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد اس اسکینڈل کے مزید بڑے انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے