کراچی کے معروف رہائشی ہوٹل آخر مہمان نوازی فراہم کر رہے ہیں یا جان لیوا خطرات؟
سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ حکومت نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ عمارتوں میں فائر الارم پینلز، پورٹیبل فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی اشارے، اسموک ڈیٹیکٹرز، سینٹرل الارم سسٹم، ہائیڈرنٹس اور خودکار فائر سپریشن سسٹم لازمی نصب اور فعال ہوں گے جبکہ بجلی کی وائرنگ کا مؤثر نظام بھی یقینی بنایا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کیا ان احکامات پر عمل ہوا بھی؟
تحقیقات ڈاٹ کام کے سروے میں EXCELSIOR ہوٹل کے بعد شارع فیصل کا تھری اسٹار ہوٹل مہران سامنے آیا، جو ہنگامی صورتحال میں خطرناک عمارت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
نومبر 2024 کی آتشزدگی میں خواتین کھلاڑیوں سمیت ملکی و غیر ملکی مہمان موجود تھے اگر فائر الارم اور حفاظتی آلات نہیں تھے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
کیا اس واقعے کے بعد ہوٹل انتظامیہ نے کوئی مؤثر حفاظتی نظام بنایا؟
یا پھر آگ بجھنے کے ساتھ ہی احتیاطی اقدامات بھی ختم ہوگئے؟
اسی دوران کراچی میں متعدد آتشزدگی کے واقعات اور سانحہ گل پلازہ پیش آیا جبکہ رواں برس لاہور کے ہوٹل انڈیگو میں بھی آتشزدگی سے ایک شخص دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگیا تو کیا کراچی کے ہوٹل کسی بڑے سانحے کے انتظار میں ہیں؟
تحقیقات ڈاٹ کام نے ہوٹل مہران کے جنرل منیجر یاسر سے رابطہ کیا۔انہوں نے فوری جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے سوالات تحریری بھیجنے کی درخواست کی۔
سوالنامہ دو مرتبہ واٹس ایپ پر ارسال کیا گیا مگر جواب دینے سے انکار کردیا گیا۔جو سوالات ہوٹل انتظامیہ سے پوچھے گئے ان کا جواب آئے گا تو تحقیقات ڈاٹ کام کے پلیٹ فارم سے من و عن شائع کیا جائے گا۔
نومبر 2024 کی آگ کے بعد فائر سیفٹی کی کون سی خامیاں سامنے آئیں اور ان پر کیا عملی اقدامات ہوئے؟
کیا ہوٹل میں واضح اور فعال ایمرجنسی ایگزٹ پوائنٹس موجود ہیں؟
کیا تمام فلورز پر فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹرز اور اسپرنکلرز نصب ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟
ہنگامی صورتحال میں مہمانوں کو خبردار کرنے کا نظام کیا ہے اور آخری فائر ڈرل کب ہوئی؟
کیا فائر سیفٹی کا مصدقہ این او سی موجود ہے اور آخری بار کب تجدید ہوا؟
غیر ملکی مہمانوں، خواتین اور قومی ٹیموں کے لیے اضافی سکیورٹی اقدامات کیا ہیں؟
فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ رابطہ نظام اور رسپانس ٹائم کیا ہے؟
کیا عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے؟
اہم سوال یہ ہےاگر سب کچھ درست ہے تو جواب دینے سے گریز کیوں؟اور اگر جواب نہیں تو کیا کراچی کے ہوٹل کسی نئے سانحے کا پیش خیمہ بن رہے ہیں؟