Screenshot_2026_0211_115037

وفاقی حکومت نے فارمیسی ایکٹ میں تبدیلی اور ترمیم کے لئے دس رکنی کمیٹی بنادی ،وفاقی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیٹری اینڈ کوراڈنیشن مصطفی کمال کی موجودگی میں کراچی سے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور فارماسسٹ کی موجودگی کے باوجود ایک بھی فرد کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ کراچی میں فارما کمپنیوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کے باوجود قانون میں ترمیم کے لئے پنجاب ،خیبرپختونخوا اور بیرون ملک سے ماہرین کو ترجیح دی گئی۔

وفاقی حکومت نے فارمیسی ایکٹ 1967 میں ترامیم کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی

حکومتِ پاکستان، وزارتِ قومی صحت خدمات، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن (NHSR&C) نے فارمیسی کے شعبے میں اصلاحات اور قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے فارمیسی ایکٹ 1967 میں مجوزہ ترامیم تیار کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سیکرٹری قومی صحت خدمات کی منظوری سے قائم کردہ کمیٹی ملک میں فارمیسی ریگولیشن، تعلیم، لائسنسنگ اور پیشہ ورانہ پریکٹس کے نظام کا مکمل جائزہ لے گی۔

کمیٹی میں اسپیشل سیکرٹری، وزارت NHSR&C چیئرمین
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ / صدر فارمیسی کونسل آف پاکستان (PCP) ،ڈاکٹر اختر عباس خان، سیکرٹری PCP ،پروفیسر ظہیرالدین بابر، قطر یونیورسٹی دوحہ (بین الاقوامی ماہر) ،محمد ابراہیم، سیکرٹری فارمیسی کونسل خیبرپختونخوا ،پروفیسر توصیف راجپوت، ڈین شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد ،پروفیسر ڈاکٹر توفیق الرحمان، چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف فارمیسی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد ،پروفیسر ڈاکٹر فرقان کے ہاشمی، جنرل سیکرٹری پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن ،
عامر لطیف، ڈائریکٹر لیگل افیئرز، ڈریپ (DRAP) اسلام آباد رکن
چیئرمین ضرورت پڑنے پر کسی بھی ماہر کو شریک رکن (Co-opted Member) نامزد کر سکیں گے۔

کمیٹی فارمیسی ایکٹ 1967 کا جائزہ لے کر ایسی ترامیم تجویز کرے گی جن کے ذریعےفارمیسی ریگولیشن کو جدید بنایا جائے
فارمیسی تعلیم اور پیشہ ورانہ معیار بہتر ہوں،بین الاقوامی بہترین اصولوں سے ہم آہنگی پیدا ہو،مریضوں کی حفاظت (Patient Safety) یقینی بنائی جائے
دائرہ کار (Scope of Work)
کمیٹی مندرجہ ذیل امور کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے کردار اور ہم آہنگی
فارمیسی تعلیم، نصاب، ایکریڈیٹیشن اور معیارِ تعلیم
کمیونٹی، ہسپتال، کلینیکل، انڈسٹریل اور ریگولیٹری فارمیسی پریکٹس کی قانونی حیثیت
رجسٹریشن، لائسنسنگ، تجدید اور بین الصوبائی رجسٹریشن نظام (ڈیجیٹل رجسٹرز سمیت)
لازمی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت (CPD) اور لائسنس کی تجدید
اخلاقی معیارات، تادیبی کارروائی، انسپیکشن اور نفاذ کے نظام
پاکستان کے فارمیسی ریگولیٹری فریم ورک کا بین الاقوامی معیار سے جائزہ لے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ تشکیل کے تین ماہ کے اندر وزارت کو پیش کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے