فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے نیا ٹیکسیشن طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت یوٹیوب سمیت دیگر مونیٹائزڈ پلیٹ فارمز سے کمائی کرنے والے افراد کو اب ایک نئے اور سخت مالی نظام کا سامنا کرنا ہوگا۔

دستیاب مسودہ قواعد کے مطابق سوشل میڈیا کانٹینٹ سے حاصل ہونے والی قابلِ ٹیکس آمدن کا تعین ایک مخصوص فارمولے کے تحت کیا جائے گا، جس میں کل موصول ہونے والی رقم سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک اخراجات منہا کرنے کی اجازت ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق کل آمدن کا تعین دو میں سے زیادہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا: یا تو اصل حاصل شدہ آمدن، یا پھر ایک مقررہ فارمولے کے تحت نکالی گئی آمدن یہ فارمولا ریونیو پر 1000 ویوز (RPM) اوسط ویوز اور کل پوسٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے لاگو کیا جائے گا۔ ایف بی آر نے اس مقصد کے لیے RPM کی شرح 195 روپے فی 1000 ویوز مقرر کر دی ہے۔
مزید برآں ان قواعد کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 147 کے تحت سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس ٹیکس کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو سالانہ ٹیکس ریٹرن میں الگ سے ظاہر کرنا ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد کی جانب سے ظاہر کردہ آمدن مقررہ فارمولے سے کم ہوئی تو ٹیکس حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ریٹرن پر نظرثانی کرتے ہوئے اضافی ٹیکس عائد کریں اور اس کی وصولی کو یقینی بنائیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام سوشل میڈیا انڈسٹری کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے کی ایک بڑی کوشش ہے تاہم اس سے ڈیجیٹل کریئیٹرز کے لیے مالی دباؤ میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔