پورٹ قاسم پر ایل پی جی لے کر آنے والا بحری جہاز "وینس 9” آخرکار کلیئر ہو کر روانہ ہو گیا،لیکن اس پورے معاملے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ امپورٹر کمپنی، ساحل گیس پرائیوٹ لمیٹڈ، کو تقریباً 14 کروڑ روپے ڈیوٹی اور ٹیکسز کے ساتھ ساتھ لگ بھگ 28 کروڑ روپے ڈیمرج بھی ادا کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ یہ تاخیر آخر کیوں ہوئی اور اس کا نقصان کس کے کھاتے میں جائے گا؟۔
معلومات کے مطابق 17 مارچ کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے اس جہاز کو روک دیا تھا، جس کے بعد کارگو کی کلیئرنس رک گئی۔ بتایا گیا کہ ممکنہ مس ڈیکلریشن کے شبے پر انکوائری شروع کی گئی۔ لیکن اس فیصلے کا اثر صرف ایک جہاز تک محدود نہیں رہا ، پورٹ قاسم پر ایل پی جی کے اسٹوریج پوائنٹس بھی بھر گئے اور سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال اس حد تک گئی کہ وفاقی حکومت کو مداخلت کرنا پڑی۔ مختلف اداروں کے درمیان بات چیت کے بعد پیش رفت ہوئی اور آخرکار 25 مارچ کو ایف آئی اے نے کسٹمز کو کلیئرنس کے لیے خط لکھا، جس کے بعد 26 مارچ کو جہاز اور اس میں موجود ایل پی جی کو ریلیز کر دیا گیا۔
یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ رہی ہے اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ ایسے حساس حالات میں ایک بڑے ایل پی جی کارگو کا رک جانا مارکیٹ کے لیے پریشانی کا سبب بنا اور ایل این جی ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی جانب سے اس سلسلے میں عوامی اور حکومتی سطح پر تشویش کا آظہار بھی کیا گیا۔
اسی لیے کچھ حلقے اس معاملے ایف آئی اے کراچی کی جانب سے اپنے اختیارات کے غیرذمہ دارانہ استعمال کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
اس سلسلے میں ایف ائی اے کے ذمہ دار عہدیدار ڈآئریکٹر کراچی منتظر مہدی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید علی مرادن سے رابطہ کیا گیا تاہم انھوں نے جہاز کی اور ایل این جی کی ریلیز کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق انکوائری کے دوران ایف آئی اے نے کمپنی، کلیئرنگ ایجنٹ اور جہاز کے عملے سے پوچھ گچھ کی، مختلف ریکارڈز اور رپورٹس کا جائزہ بھی لیا گیا۔ لیکن اب بھی اصل سوال باقی ہے — اگر جہاز اور کارگو کلیئر ہو چکے ہیں تو انکوائری کہاں کھڑی ہے؟ اور کیا ابتدائی خدشات درست ثابت ہوئے یا نہیں؟۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری ابھی جاری ہے اور تمام پہلوؤں کو دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مکمل تصویر ابھی سامنے نہیں آئی۔
یہ معاملہ صرف ایک جہاز کا نہیں بلکہ اس سے جڑے بڑے سوالات بھی ہیں۔ جیسا کہ کیا ایک ادارے یا چند جونیئر افسران کو یہ اختیار دیا جاسکتا ہے کہ ان کی مہم جوئی یا مبینہ غیرذمہ دارانہ کارروائیاں ملک کی انرجی سیکیورٹی پر اثرانداز ہونے کا سبب بن جائیں۔