صوبہ سندھ میں اعلیٰ تعلیمی ادارے میں وائس چانسلر کی تقرری تنازع کی زد میں اگیا ہے، شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (SBBUVAS) سکرنڈ کے وائس چانسلر کے انتخابی عمل میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نااہلی کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کردی گئی ہے۔


یہ درخواست وزیرِ اعلیٰ سندھ کو ارسال کی گئی ہے، جسے چیف سیکریٹری سندھ، پرنسپل سیکریٹری برائے وزیرِ اعلیٰ سندھ، اور چیئرمین سرچ کمیٹی/چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کو وائس چانسلر کے انٹرویو کے عمل سے فوری طور پر نااہل قرار دیا جائے۔
درخواست گزاروں کے مطابق ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جس میں خواتین کے ساتھ ہراسانی جیسے سنگین الزامات بھی شامل ہیں۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان الزامات کے حوالے سے ٹھوس شواہد اور معاون دستاویزات موجود ہیں، جبکہ ان کے خلاف تھانہ ٹنڈوجام میں مقدمات بھی درج ہیں۔
مزید برآں، ان کے طرزِ عمل سے متعلق آئینی درخواستیں اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی بطور ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل (QEC) جامعہ لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز، اوتھل میں تعیناتی کے دوران انتظامی بدانتظامی سے متعلق اہم دستاویزات بھی منسلک کی گئی ہیں، جن میں جامعہ کے داخلی نظم و نسق سے متعلق دیگر معاملات بھی شامل ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیش کردہ شواہد اور مصدقہ حقائق کی روشنی میں، شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ کے طلبہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عمران رشید راجپوت کو وائس چانسلر کے عہدے کے لیے جاری سلیکشن پراسیس، بشمول انٹرویو، میں شرکت کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ وائس چانسلر کے عہدے کے لیے اشتہار 27 ستمبر 2025 کو روزنامہ ڈان اور روزنامہ کاوش میں شائع کیا گیا تھا۔
درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایسے حالات میں مذکورہ امیدوار کو انتخابی عمل میں شامل ہونے کی اجازت دینا نہ صرف اس عمل کی شفافیت اور ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا، جس سے یہ تاثر ملے گا کہ تعلیمی بدعنوانی اور ادارہ جاتی بدانتظامی کے الزامات رکھنے والے افراد بھی اعلیٰ عہدوں کے اہل سمجھے جاتے ہیں۔
درخواست گزاروں نے زور دیا ہے کہ یہ اپیل قانون کی بالادستی، دیانتداری، شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے تاکہ ادارے کی ساکھ اور قیادت کے تقدس کو برقرار رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق لسبیلا یونیورسٹی میں بطور افسر خدمات کے دوران ادارے کی کارکردگی میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جبکہ یونیورسٹی کا معیار گر گیا،بیرون ملک دورے کے دوران مبینہ طور پر قواعد کی خلاف ورزی کی گئی،سرکاری فنڈز کے غلط استعمال پر وضاحت طلب کی گئی اور رقم واپسی کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔
یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹر راجپوت کے حق میں بااثر شخصیات کی جانب سے لابنگ کی جا رہی ہے۔زرائع کے مطابق ماضی میں بھی ان کی تقرری کی کوششیں کی گئیں لیکن مسترد ہوئیں،دوبارہ انہیں اعلیٰ عہدے پر فائز کرنے کی کوششوں نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تعیناتی کی صورت میں ادارے میں اقربا پروری کو فروغ مل سکتا ہے۔
تعلیمی و سماجی حلقوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر عمران راشد راجپوت کی سفارش کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔وائس چانسلر کے تقرر کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل یقینی بنایا جائے،متنازع ریکارڈ رکھنے والے افراد کو اعلیٰ تعلیمی عہدوں سے دور رکھا جائے۔
اہم سوال شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب اس اہم تعلیمی ادارے کی ساکھ کیا ایسے متنازع فیصلوں کی متحمل ہو سکتی ہے۔؟