وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کراچی نے Port Qasim کی بندرگاہ پر ایل پی جی لے کر آنے والے بحری جہاز وینس 9 کو روک لیا ہے۔

ایف آئی اے کو خفیہ اطلاع ملی ہے کہ اس ایل پی جی ٹینکر میں ایران سے گیس لی گئی ہے۔جہاز میں آنے والی ایل پی جی مبینہ طور پر سابق نگران وزیر اعظم اور ایک سابق وزیر پیٹرولیم کی ملکیت ہے۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم نے Port Qasim کی بندرگاہ پر گزشتہ دو دن سے لنگر انداز ہونے والے بحری جہاز وینس 9 کو کلئیرنس کے لئے روک رکھا ہے۔
ایف آئی اے کو اطلاع ملی تھی کہ اس ایل پی جی کارگو ٹینکر میں ایران سے اسمگل کی گئی ہے اور اسی خفیہ اطلاع پر اس بحری جہاز کے عملے سے پوچھ گچھ کی گئی ہے اور دستاویزات کہ چھان بین جاری ہے۔
زرائع کا کہنا ہے کہ جس کارگو ٹینکر میں ایل پی جی موجود ہے اس کی ملکیت سابق نگران وزیراعظم Anwaar-ul-Haq Kakar اور سابق وزیر پیٹرولیم Asim Hussain کی ملکیت ہے۔تاہم سرکاری طور پر ایف آئی اے نے اس کی تصدیق سے انکار کیا یے۔اس کارروائی کے بعد ایف آئی اے کو دباؤ کا سامنا ہے تاہم ایف آئی اے کی ٹیم نے مسلسل اس کارگو ٹینکر کی دستاویزات کے زریعے چھان بین کا عمل جاری رکھا ہے۔
تحقیقات ڈاٹ کام کی ٹیم نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی اور بعد ازاں ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی علی مردان سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔