Screenshot_2025_1024_124113

ایف آئی اے میں اصلاحات اور قانون کی حکمرانی کے بلند بانگ دعوے اپنی جگہ، مگر ادارے کے اندر پھیلتی بے چینی ایک مختلف کہانی سنا رہی ہے۔ گزشتہ 6 برس سے سینکڑوں سب انسپکٹرز کی ترقی کا عمل سرد خانے کی نذر ہو چکا ہے، جبکہ حیران کن طور پر 200 نئے انسپکٹرز کی بھرتی کے باوجود 80 نشستیں خالی ہونے کا اعتراف خود حکام قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں سب انسپکٹرز کی ترقی اور ترمیم شدہ اے پی ٹی رولز کی منظوری میں غیر معمولی تاخیر نے ادارے کے اندر بے چینی کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کی جانب سے اصلاحات اور ادارے کو مضبوط بنانے کے دعوے بارہا سامنے آتے رہے ہیں، مگر زمینی سطح پر ان دعوؤں کا اثر دکھائی نہیں دیتا۔

ادارے میں اس وقت 400 سے زائد سب انسپکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جو تحقیقاتی نظام کا سب سے اہم ستون ہیں۔ یہی افسران ملک بھر میں پیچیدہ کیسز کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، لیکن ان میں سے کئی گزشتہ 16 برس سے ایک ہی عہدے پر تعینات ہیں ایک ایسا جمود جو کسی بھی پیشہ ور ادارے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ پروموشن اسٹرکچر نہ صرف فرسودہ ہو چکا ہے بلکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقابلے میں انتہائی سست بھی ہے۔

2013-14 کے اے پی ٹی رولز کے تحت صرف 25 فیصد کوٹہ سب انسپکٹرز کی ترقی کے لیے رکھا گیا، جبکہ 75 فیصد نشستیں براہ راست بھرتیوں کے لیے مختص کر دی گئیں ایک ایسا فیصلہ جس نے اہل افسران کی راہیں مسدود کر دیں۔

2020 میں اس ناانصافی کے ازالے کے لیے نئے اے پی ٹی رولز تیار کیے گئے، جن میں ترقی کا کوٹہ 100 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی۔ یہ سمری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ارسال کی گئی، مگر چھ برس گزرنے کے باوجود یہ فائل منظوری کی منتظر ہے بیوروکریٹک سست روی کی واضح مثال ہے۔

مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں ایف پی ایس سی کے ذریعے 200 انسپکٹرز بھرتی کیے گئے، جبکہ محکمانہ ترقی کا حق رکھنے والے سب انسپکٹرز کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ حالانکہ قواعد کے مطابق 25 فیصد نشستیں ان کے لیے مختص تھیں۔ اس وقت بھی 80 انسپکٹرز کی نشستیں خالی پڑی ہیں، مگر ان کو پر کرنے کے لیے اندرونی ترقی کا راستہ اختیار نہیں کیا جا رہا۔

یہ صورتحال نہ صرف سب انسپکٹرز کے کیریئر کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ پورے ادارے کے ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہے، جہاں نچلے درجے سے اوپر تک پروموشن چین متاثر ہو چکی ہے۔

تاہم ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کے حوالے سے یہ امید ضرور وابستہ کی جا رہی ہے کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے، زیر التوا اے پی ٹی رولز کی منظوری یقینی بنائیں گے اور اہل افسران کو ان کا جائز حق دلائیں گے۔

حقیقت یہی ہے کہ اگر اعلیٰ حکام نے فوری اور سنجیدہ مداخلت نہ کی تو یہ بحران نہ صرف شدت اختیار کرے گا بلکہ ادارے کی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اصلاحات کے دعوے عملی اقدامات میں کب تبدیل ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے