فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ماتحت کلکٹریٹ آف کسٹمز (ائیرپورٹس) کراچی نے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ (JIAP) پر جاری اربوں روپے مالیت کے منظم ائیر کارگو پیل فریج اسکینڈل کا سراغ لگا کر بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جعلی گیٹ پاسز، کارگو مینی فیسٹ میں ردوبدل، ایئر وے بلز چھپانے اور کسٹمز کلیئرنس سسٹم سے انڈیکس نمبرز حذف کرنے کے ذریعے قیمتی درآمدی سامان غیر قانونی طور پر کارگو ٹرمینل سے باہر منتقل کیا جاتا رہا۔


کسٹمز حکام کی تحقیقات اور بعد ازاں جاری ہونے والے پانچ علیحدہ ایڈجوڈیکیشن آرڈرز میں کراچی ائیرپورٹ کے کارگو ٹرمینل آپریٹر کمپنی میسرز جیریز ڈی ناتا (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے کردار اور ادارہ جاتی غفلت کو واضح طور پر ثابت قرار دیا گیا۔ فیصلوں میں کہا گیا کہ کمپنی کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے جعلی اور فرضی گیٹ پاسز منظم انداز میں تیار کیے گئے جن کی مدد سے قیمتی درآمدی کنسائنمنٹس بغیر گڈز ڈیکلریشن (GD) اور بغیر ڈیوٹی و ٹیکس ادائیگی کے غیر قانونی طور پر کلیئر کی جاتی رہیں۔


ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی نے اپنے فیصلوں میں قرار دیا کہ یہ محض چند ملازمین کی انفرادی کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ پورا معاملہ سسٹم کی ناکامی، داخلی کنٹرولز کی کمی اور ٹرمینل آپریٹر کی دانستہ ادارہ جاتی غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ جیریز ڈی ناتا نے انکوائری کے دوران کسٹمز حکام سے مکمل تعاون نہیں کیا اور جان بوجھ کر وہ اہم CCTV فوٹیج اور سسٹم لاگز فراہم نہیں کیے جو کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 211 کے تحت محفوظ رکھنا لازمی تھے۔ حکام کے مطابق کمپنی نے فراڈ میں ملوث اہلکاروں کو تحفظ بھی فراہم کیا۔
کسٹمز حکام نے کارروائی کے دوران ایسے متعدد کنسائنمنٹس پکڑے جن میں لیپ ٹاپ، آئی فون، آئی پیڈ، میک بک، پلے اسٹیشن، ٹیبلٹس، میموری کارڈز اور دیگر قیمتی الیکٹرانک اشیاء شامل تھیں، جنہیں جعلی گیٹ پاسز کے ذریعے کارگو شیڈ سے باہر نکالا جارہا تھا۔ مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ متحدہ عرب امارات (UAE) سے آنے والی کئی کنسائنمنٹس پہلے ہی جعلی دستاویزات اور WeBOC سسٹم میں ریکارڈ چھپا کر کلیئر کی جاچکی تھیں تاکہ کسٹمز نگرانی سے بچا جاسکے۔
کلکٹریٹ آف کسٹمز (ائیرپورٹس) کراچی نے اس مقدمے میں آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جن میں جیریز ڈی ناتا کے پانچ ملازمین بھی شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کے اعترافی بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے جن میں انہوں نے سپروائزرز کی ہدایات پر جعلی گیٹ پاس جاری کرنے اور کئی برسوں سے جاری منظم نیٹ ورک کے ذریعے درآمدی سامان کی غیر قانونی نکاسی کا اعتراف کیا۔ تحقیقات کے دوران جعلی کسٹمز گیٹ آفیسر مہریں بھی برآمد ہوئیں جو جعلی گیٹ پاسز کی تیاری میں استعمال کی جارہی تھیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) نے بھی ازخود نوٹس لیتے ہوئے Own Motion Investigation No. 04/OM/2025 میں اس بڑے اسکینڈل اور ائیر کارگو ریگولیٹری نظام کی خامیوں پر تفصیلی آبزرویشنز جاری کیں۔
معاملے کی سنگینی کے پیش نظر کسٹمز حکام نے میسرز جیریز ڈی ناتا پر تقریباً 2 ارب 70 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا جبکہ تقریباً 22 کروڑ 10 لاکھ روپے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں وصولی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ائیر کارگو سیکٹر میں کرپشن، اسمگلنگ، پیل فریج اور سسٹم میں موجود منظم خامیوں کے خلاف ایک بڑی پیش رفت ہے، جس سے پاکستان کے ائیرپورٹس پر ریگولیٹری نگرانی مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔