Screenshot_2026_0803_022824

جامعہ این ای ڈی برائے انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں 6 برس سے تعطل کا شکار انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک کے لئے طلبہ و طالبات کے لئے سندھ حکومت کی جانب سے 30 کروڑ کی لاگت سے تیار ہونے والے ہاکی اسٹیڈیم کو مسمار کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔

2020 میں 90 ملین ڈالر کی لاگت سے 20 منزلہ عمارت تعمیر ہونا تھی جس کے لئے سول ایوی ایشن نے پہلے این او سی منسوخ کی پھر منظور کرلی ۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے 6 برس سے تعطل کا شکار منصوبے کے لئے اپنی ہی جامعہ کے پروفیسر کو لاکھوں روپے ادا بھی کردئیے ہیں ۔

منصوبے کی فزیبلٹی تیار کرنے والی غیر ملکی کمپنی کو بھی بھاری معاوضے کی ادائیگی کی گئی۔

جامعہ این ای ڈی برائے انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں 2020 میں اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک تعمیر کرنے کا اعلان کیا جس کی تعمیر پر 90 ملین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ۔

جامعہ این ای ڈی کے اس شاندار منصوبے کے لئے ابتدائی طور پر 1 عشاریہ 3 ایکڑ اراضی مختص کی گئی جس پر 20 منزلہ عمارت تعمیر کی جانا تھی اور اس کی فزیبلٹی کے لئے EY نامی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا اور اس کمپنی کو بھاری رقوم بھی ادا کی گئی اس کمپنی کی بنائی گئی فزیبلٹی رپورٹ پر سول ایوی ایشن نے 20 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی این او سی منسوخ کردی ۔

جامعہ این ای ڈی کی انتظامیہ نے اس منسوخی کے بعد آئی ٹی پارک منصوبے میں تبدیلی کی اور ایک عشاریہ 3 ایکڑ کی اراضی کو 2 عشاریہ 6 ایکڑ میں تبدیل کیا اور دس 10 منزل کی دو عمارتیں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کی تعمیر کے لئے جامعہ این ای ڈی میں ہاکی اسٹیڈیم کی زمین کا انتخاب کیا گیا ۔

واضح رہے کہ جامعہ این ای ڈی میں تعمیر ہونے والے خوبصورت ہاکی اسٹیڈیم پر سندھ حکومت نے 30 کروڑ روپے خرچ کئے اور نئی آسٹرو ٹرف بچھائی گئی لیکن اس گراؤنڈ پر جامعہ این ای ڈی کے طلبہ و طالبات نے ایک میچ بھی نہیں کھیلا اور جلد بازی میں پہلے ہاکی اسٹیڈیم کی آسٹرو ٹرف اکھاڑ دی گئی اور دوسرے مرحلے میں ہاکی اسٹیڈیم کو مسمار کرنے کی تیاری ہورہی ہے ۔

دوسری جانب سول ایوی ایشن نے جامعہ این ای ڈی کے سامنے یونیورسٹی روڈ پر بننے والے ایک 20 منزلہ رہائشی عمارت ہو جواز بنا کر جامعہ این ای ڈی میں 20 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی این او سی منظور کرلی تاہم جامعہ این ای ڈی نے اس منظوری کے باوجود اپنے منصوبے کو پہلے والی پوزیشن پر لانے سے مبینہ طور پر روک لیا ہے جس کا مقصد ممکنہ طور پر مخصوص ٹھیکدار یا افراد کو فائدہ پہنچانا ہوسکتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ جب 20 منزلہ آئی ٹی پارک کے لئے سول ایوی ایشن نے این او سی جاری کردی تو منصوبہ پہلے والی پوزیشن پر کیوں نہیں لایا گیا جبکہ دس 10 منزلہ کی عمارت تعمیر ہونے سے اخراجات دگنا ہونے کا امکان ہے اور طلبہ و طالبات کھیلوں کی سرگرمی سے بھی محروم ہو جائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ اس آئی ٹی پارک کے لئے ENERTECH نامی پرائیوٹ کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا جو ایک کویت کی کمپنی ہے اور اس منصوبے کے لئے کوئی ٹینڈر کیا گیا ان سوالات کے جوابات دینے سے جامعہ این ای ڈی کی انتظامیہ کیوں گریز کر رہی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ آئی ٹی پارک کے لئے ہونے والے معاہدے کو کیوں خفیہ رکھا جارہا ہے۔؟۔سرکاری زمین بغیر بولی کے کیسے حوالے ہورہی ہے جبکہ اس حیثیت ہی تبدیل نہیں ہوسکتی ہے جب جگہ لیز ہی نہیں ہوئی تو معاہدہ پہلے کیسے ہوگیا ہے؟ اور اس منصوبے کے لئے صرف ENERTECH کا ہی نام کیوں سامنے آیا ہے باقی کسی کمپنی نے دلچسپی لی ہی نہیں ہے یا بغیر ٹینڈر الاٹمنٹ ہوئی؟

جامعہ این ای ڈی کے اس بڑے منصوبے سے اب تک طلبہ و طالبات کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے اور وہ ہاکی اسٹیڈیم سے محروم ہوگئے ہیں جبکہ جامعہ این ای ڈی میں کے پروفیسر اسد عارفین جو کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استاد ہیں وہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے لاکھوں روپے وصول کر چکے ہیں اور پرائیوٹ کمپنیاں منصوبے سے پہلے ہی وصولیوں میں مصروف ہیں ۔

جامعہ این ای ڈی کی انتظامیہ نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت پوچھے گئے ان سوالات پر جواب دینے سے گریز کیا تاہم 6 برس سے تعطل کا شکار اس منصوبے پر ممکنہ طور پر اگر کوئی انکوائری شروع ہوئی تو نئے اسکینڈل کی بنیاد بن سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے