سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر کو کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے حوالے نا کرنے اور ڈی سیل کے حکم پر عمل درآمد نا ہونے پر مبینہ توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا ۔
ایڈمنسٹریٹر آصف خان کو عدالت نے حکم دیا ہے کہ 10 ستمبر تک حکم پر عمل درآمد کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے ورنہ توہین عدالت پر کارروائی ہوگی۔
واضح رہے کہ ایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک بورڈ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کو چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ نے Evacue پراپرٹی قرار دیا ہے تاہم عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کی وضاحت کو مسترد کردیا ہے ۔
یاد رہے کہ آئینی عدالت کے واضح حکم کے باوجود متروکہ وقف املاک بورڈ نے کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کو اس کی اصل ملکیت کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے حوالے نہیں کیا اور عدالتی حکم کے برخلاف ایف آئی اے کے زونل دفاتر اور سرکلز کو اس عمارت میں منتقل کرنا شروع کر دیا جس پر کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے عدالت سے رجوع کیا۔
سندھ ہائیکورٹ کراچی نے آئینی درخواست نمبر D-1904/2026 سے متعلق CMA No.15549/2026 کی سماعت کے دوران عدالتی احکامات پر مبینہ عدم تعمیل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ جائیداد کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے اور آئندہ سماعت پر تعمیلی رپورٹ (Compliance Report) پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
2 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے آرڈر شیٹ کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ مرکزی حکم کے تحت فریقین کو واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ درخواست گزار جائیداد کا قبضہ/پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے اس سے استفادہ کرے، تاہم اس کے برعکس جواب دہندگان/مبینہ توہینِ عدالت کے مرتکبین کی جانب سے ایسا حکم جاری کیا گیا جس کے بعد جائیداد کو Evacuee Trust Property قرار دے کر نوٹیفائی کیا گیا۔
عدالت کے مطابق یہ اقدام بادی النظر میں عدالتی حکم کی واضح خلاف ورزی ہے اور عدالت کی نظر میں یہ آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 204 کے مفہوم میں ایک جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔
سماعت کے دوران مبینہ توہینِ عدالت کے مرتکب آصف خان، ایڈمنسٹریٹر Evacuee Trust Property Board (ETPB)، اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
ان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ اتھارٹی نے عدالت کی ہدایات کے مطابق ہی حکم جاری کیا، اس لیے توہینِ عدالت کا کوئی مقدمہ نہیں بنتا۔
تاہم آرڈر شیٹ کے مطابق عدالت نے ایڈمنسٹریٹر ETPB کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت سے اتفاق نہیں کیا اور واضح کیا کہ پیش کیے گئے مؤقف سے عدالت مطمئن نہیں۔
عدالت نے اسی تناظر میں مبینہ توہینِ عدالت کے مرتکبین کو ہدایت کی کہ زیرِ سوال جائیداد کو ڈی سیل کیا جائے عدالت کے حکم کی تعمیل یقینی بنائی جائے اور اگلی سماعت سے قبل کمپلائنس رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ارڈر شیٹ کے مطابق کیس کی آئندہ سماعت 10 ستمبر 2026 کو صبح 10 بجے مقرر کی گئی ہے۔