ایف آئی اے کراچی میں این آئی سی ایل مقدمے کی تفتیش کے دوران گواہوں کو تحفظ دینے کے قانونی کی دھجیاں اڑا دی گئیں ۔ایف آئی اے کراچی کے مقدمے میں جعلی بھرتی ہونے والے اور نامزد تمام افسران اور اپنے عہدوں پر موجود ،این آئی سی ایل میں جعلی بھرتیوں سمیت دیگر انکوائریوں میں درخواست گزار یونین کا صدر اور سیکرٹری ملازمت سے برطرف کردئیے گئے ۔
نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں، تقرریوں، ملازمتوں کو مستقل کرنے، ترقیوں اور مالی فوائد کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے کے بعد تحقیقات کی شفافیت، سرکاری ریکارڈ کے تحفظ اور انتظامی جواب دہی سے متعلق اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ شکایت 2 جون 2023 کو این آئی سی ایل ایمپلائز یونین (سی بی اے) کے سابق صدر زبیر احمد سومرو اور سابق جنرل سیکریٹری مولا بخش بھگت کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی۔
شکایت کنندگان کا مؤقف ہے کہ بھرتیوں اور تقرریوں کے معاملے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے دوران متعلقہ ریکارڈ کے تحفظ اور ایسے انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے جن سے کسی بھی شخص کو تحقیقات پر اثرانداز ہونے کا موقع نہ ملے۔
دستاویزات کے مطابق مبینہ بھرتیوں اور تقرریوں کے معاملے میں درج ذیل سابق اور حاضر افسران کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ان افسران میں خالد حامد سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، این آئی سی ایل،طارق عزیز ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کارپوریٹ سروسز،اعجاز خان سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کارپوریٹ سروسز،علی اصغر سابق جنرل منیجر، ہیومن ریسورسز،عامر اقبال سابق منیجر، ہیومن ریسورسز،جمال الدین انصاری سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کارپوریٹ سروسز،محمد ایاز خان نیازی سابق چیئرمین، این آئی سی ایل شامل ہیں
مقدمے میں درج ذیل افراد کو مبینہ طور پر بھرتیوں، تقرریوں اور بعد ازاں حاصل ہونے والے ملازمت کے فوائد کے حوالے سے تحقیقات کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے ان افراد میں بلال قلی،فیصل خنزادہ،فواد احمد خان،علی رضا الطاف،نوید احمد،عائشہ فاروق،ایم علیم جونیجو،کرنل (ر) رضوان احمد،عمران احمداس کے علاوہ دیگر ایسے افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کی جا سکتی ہیں جن کے نام دورانِ تفتیش سامنے آسکتے ہیں۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مقدمے میں نامزد بعض افسران اور مبینہ مستفید ہونے والوں میں شامل افراد اب بھی این آئی سی ایل کے اہم انتظامی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
کمپنی کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب انتظامی معلومات کے مطابق طارق عزیز ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کارپوریٹ سروسز،بلال قلی کمپلائنس اور قائم مقام کمپنی سیکریٹری،نوید احمد چیف منیجر، قانون اور لیفٹیننٹ کرنل رضوان احمد (ر) جنرل منیجر، رئیل اسٹیٹ ہیں۔
ان عہدوں پر تعیناتی بذاتِ خود کسی شخص کے خلاف جرم ثابت نہیں کرتی، تاہم مقدمے میں ناموں کی موجودگی اور متعلقہ انتظامی ذمہ داریوں کے تناظر میں ریکارڈ تک رسائی اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کا جائزہ اہم ہو جاتا ہے۔
بھرتیوں، تقرریوں، ملازمتوں کو مستقل کرنے، ترقیوں، بورڈ اجلاسوں، مالی ادائیگیوں اور سرکاری مراسلت کا ریکارڈ اس تحقیقات میں اہم شواہد ثابت ہو سکتا ہے۔
شکایت کنندگان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں اور ریکارڈ تک رسائی کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق ضروری حفاظتی اقدامات کیے جائیں، جن میں حساس ذمہ داریوں سے تبادلہ، غیر حساس فرائض یا او ایس ڈی تعیناتی اور قانونی جواز موجود ہونے کی صورت میں معطلی شامل ہو سکتی ہے۔
مقدمے کے اندراج کے بعد زبیر احمد سومرو اور مولا بخش بھگت نے 29 ستمبر 2026 کو وفاقی حکومت کی اعلیٰ اتھارٹیز کو مشترکہ درخواست جمع کرائی۔
درخواست میں طارق عزیز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارپوریٹ سروسز، اور مقدمے میں مبینہ مستفید ہونے والوں کے طور پر شناخت کیے گئے افراد کے لیے بھی قانون کے مطابق مناسب انتظامی حفاظتی اقدامات کی درخواست کی گئی۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی شخص کو مجرم قرار دینا نہیں بلکہ شواہد کو محفوظ رکھنا اور تحقیقات کو شفاف بنانا ہے۔
درخواست گزاروں نے بعد ازاں سیکریٹری تجارت کو ریمائنڈر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 29 ستمبر کی درخواست پر انہیں تاحال کوئی تحریری جواب یا کارروائی سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
درخواست گزاروں نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 اور 19-A اور حقِ رسائی معلومات ایکٹ 2017 کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی صورتحال، متعلقہ محکمے کو ارسال کیے جانے، مجوزہ یا مکمل کارروائی، تاخیر کی وجوہات اور قانون کے تحت قابلِ افشا نتائج سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ شکایت کنندگان این آئی سی ایل کے سابق سی بی اے عہدیدار ہیں جنہوں نے مبینہ بھرتیوں کی بے ضابطگیوں کے خلاف ایف آئی اے سے رجوع کیا تھا۔
زبیر احمد سومرو اور مولا بخش بھگت کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے میں شکایات اور مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے دوران انہیں این آئی سی ایل سے برطرف کیا گیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ برطرفیاں ان کی شکایات اور انکشافات سے منسلک تھیں، اس لیے ان کے حالات کا آزادانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر مجاز اتھارٹی برطرفیوں کو غیر قانونی یا انتقامی قرار دے تو انہیں ملازمت پر بحال کیا جائے، سروس کا تسلسل، سینیارٹی، واجب الادا مالی فوائد اور دیگر متعلقہ مراعات بحال کی جائیں۔
درخواست گزاروں نے قانونی شکایات اور حکام سے تعاون کے باعث مزید انتقامی کارروائیوں سے تحفظ بھی طلب کیا ہے۔
* ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تحقیقات کے تحفظ کے لیے انتظامی اقدامات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟،کیا تحقیقات سے متعلقہ حاضر افسران کی ذمہ داریوں اور ریکارڈ تک رسائی کا آزادانہ جائزہ لیا گیا ہے؟،کیا بھرتیوں، تقرریوں، انسانی وسائل اور بورڈ اجلاسوں کا تمام اصل ریکارڈ محفوظ کر لیا گیا ہے؟،کیا این آئی سی ایل انتظامیہ نے ایف آئی اے کو مکمل تعاون اور مطلوبہ ریکارڈ فراہم کیا ہے؟،کیا وزارت نے قانون اور دستیاب شواہد کی روشنی میں تبادلے، او ایس ڈی یا معطلی پر غور کیا ہے؟،کیا شکایت کنندگان کی درخواست پر کارروائی کرکے تحریری جواب جاری کیا گیا ہے؟،کیا دونوں سابق سی بی اے عہدیداروں کی برطرفیوں کا آزادانہ جائزہ لیا جائے گا؟
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں مقدمے کا اندراج ہونا جون 2023 میں موصول ہونے والی شکایات کے بعد ایک اہم پیش رفت ہے۔
اب تحقیقات میں یہ طے ہونا باقی ہے کہ آیا بھرتیوں کے قواعد، سرکاری ہدایات اور مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہوئی، اس کے ذمہ دار کون تھے، کسی فرد نے غیر قانونی فائدہ حاصل کیا یا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔
وزارتِ تجارت، این آئی سی ایل بورڈ اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ تمام متعلقہ شواہد محفوظ رہیں اور کسی فرد کو تحقیقات پر غیر مناسب اثرانداز ہونے کا موقع نہ ملے۔
احتساب کے مطالبے کے ساتھ قانونی تقاضوں کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ محض ایف آئی آر یا شکایت میں نام آنے سے کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد شواہد کے تحفظ اور تحقیقات کی آزادی کے لیے مناسب انتظامی اقدامات نظر انداز نہ ہوں۔
وزارتِ تجارت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا تحقیقات کو انتظامی مداخلت سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے، جبکہ متعلقہ افراد اور ریکارڈ اسی ادارے کے انتظامی کنٹرول میں موجود ہیں جس کے معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔
وزارتِ تجارت اور این آئی سی ایل بورڈ کو واضح کرنا ہوگا کہ تحقیقات کی شفافیت اور ریکارڈ کے تحفظ کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔