کراچی میں قونصلیٹ جنرل آف جاپان کے نام پر ہونے والی کروڑوں روپے کی مالی بدعنوانی اور جعل سازی کا سنگین اسکینڈل ایک نیا اور چونکا دینے والا رخ اختیار کر گیا ہے۔ ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی میں درج 2024 کے مقدمے میں شریک ملزم حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) کے افسر کو، مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے باوجود، بینک انتظامیہ نے ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے پر ترقی دے دی۔
ذرائع کے مطابق جس وقت ایف آئی اے کی تحقیقات اسپیشل بینکنگ کورٹ میں جاری ہیں اور ملزمان تاحال ضمانت پر ہیں، اسی دوران نجی بینکنگ سیکٹر میں احتساب کے تمام دعوے سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر فہد الطاف نامی شخص کی پوسٹ منظرِ عام پر آئی، جس میں اس نے اپنی ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے پر ترقی کا اعلان کرتے ہوئے قریبی دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔ یہ پوسٹ دیکھتے ہی بینکنگ اور تحقیقاتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی، کیونکہ مذکورہ افسر ایف آئی اے کے مقدمہ الزام نمبر 10/2024 میں شریک ملزم ہے۔



یہ مقدمہ 4 اپریل 2024 کو ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی میں درج کیا گیا تھا، جس میں سابق اسسٹنٹ قونصلیٹ جنرل آف جاپان کراچی عبید انور، حبیب بینک لمیٹڈ ٹاور برانچ کے کسٹمر سروسز آفیسر اور فہد الطاف کو نامزد کیا گیا ہے۔
قونصلیٹ جنرل آف جاپان کی جانب سے ایف آئی اے کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عبید انور نے اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی اور فرضی بینک اکاؤنٹس کھلوائے اور قونصلیٹ کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خردبرد کی۔
تحقیقات کے مطابق عبید انور نے حبیب بینک لمیٹڈ، ٹاور برانچ کراچی میں جاپانی سفارتکار کی اہلیہ مسز فومیکا کومگائے کے نام پر دو جعلی اکاؤنٹس کھلوائےایک امریکی ڈالر اور دوسرا پاکستانی روپے کے لیےجبکہ متاثرہ خاتون اور قونصلیٹ جنرل آف جاپان کو اس جعل سازی کا کوئی علم نہیں تھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جاپان کے قونصل جنرل کی اہلیہ کا اصل نام فومیکا کوماگا ہے، تاہم جعل سازی کے لیے ایک ہی نام کو مختلف ٹائٹلز اور ہجوں کے ساتھ استعمال کیا گیا تاکہ بینکنگ سسٹم کو دھوکہ دیا جا سکے۔
ایف آئی اے کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ جعلی دستخطوں اور بوگس دستاویزات کے ذریعے اکاؤنٹس کھلوائے گئے، بینک حکام نے لازمی تصدیقی عمل مکمل کیے بغیر چیکس جمع اور کیش کروائے، اور قونصلیٹ جنرل آف جاپان کے فنڈز ان اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ان جعلی لین دین کے ذریعے تقریباً 1 لاکھ 21 ہزار 210 امریکی ڈالر غیر قانونی طور پر نکلوائے گئے۔
مزید انکشاف ہوا کہ عبید انور نے بغیر کسی اجازت کے قونصلیٹ جنرل آف جاپان کے سرکاری امریکی ڈالر اور پاکستانی روپے اکاؤنٹس میں خود کو دستخطی مجاز (Signatory) ظاہر کیا اور غیر سرکاری ریٹس پر غیر قانونی کرنسی کنورژن میں بھی ملوث رہاجبکہ اس تمام عمل کی قونصل جنرل سے کبھی منظوری نہیں لی گئی۔
ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی کا یہ مقدمہ اس وقت اسپیشل بینکنگ کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مالی بدعنوانی کے سنگین مقدمات میں نامزد افسران کی ترقیاں احتسابی نظام پر ایک اور سوالیہ نشان نہیں؟