Screenshot_2025_0709_042642

جامعہ کراچی میں موجودہ انتظامیہ کے متوقع وائس چانسلر کے امیدوار ڈاکٹر شبیب الحسن کی 8 سالہ خلاف ضابطہ غیر حاضری کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایک رکنی انکوائری کمیٹی نے کیسے تحفظ فراہم کیا اور انتظامیہ کا دوہرا معیار بھی کھل کر سامنے آگیا، جہاں 5 برس سے کم عرصہ چھٹی کرنے والے اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا جبکہ 5 برس سے زائد اساتذہ کو تحفظ فراہم کیا گیا۔

جامعہ کراچی میں من پسند اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے کو انتظامیہ کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آگیا۔ گزشتہ تین برس میں جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے سینڈیکیٹ کے زریعے پانچ برس سے کم چھٹی پر رہنے والے اساتذہ شعبہ فلاسفی کے ڈاکٹر سید عالم شاہ، شعبہ معاشیات کی مسز صبا مسعود، کمپیوٹر سائنس سے وابستہ ڈاکٹر تحسین احمد جیلانی پانچ برس بعد واپس آئے تو انہیں برطرف کیا گیا جبکہ  شعبہ فزکس کی رابعہ نجم اور شعبہ کیمسٹری کی ڈاکٹر حمیدہ سلطان کو دو برس بعد ہی سینڈیکیٹ سے منظوری کے بعد ملازمت سے برطرف کرنے کی منظوری دی جبکہ شعبہ تاریخ کی مسز کشور خان اور ڈاکٹر ثمرہ سرفراز 5 برس سے زائد چھٹیوں پر موجود ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اسی طرح حال ہی میں غیر قانونی طریقہ سے 8 برس سے زائد جامعہ کراچی سے غیر حاضر رہنے والے پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن کو موجودہ انتظامیہ نے ایک رکنی کمیٹی کے زریعے کلین چیٹ بھی دی اور عہدے پر تعینات بھی کردیا جبکہ چھٹیوں کے دوران تنخواہوں سمیت دیگر الاوئنسسز کی بحالی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے جس کی بڑی وجہ موجودہ وائس چانسلر خالد عراقی کی مدت ملازمت مکمل ہونے سے قبل موجودہ انتظامیہ کی شدید خواہش ہے کہ ڈاکٹر شبیب الحسن آئندہ وائس چانسلر جامعہ کراچی مقرر ہو جائیں۔

جامعہ کراچی کی جانب سے پروفیسر شبیب الحسن کی خلاف ضابطہ 8 برس سے زائد چھٹیوں پر جانے کے بعد دوبارہ جامعہ کراچی آنے سے قبل وائس چانسلر کے حکم پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے انکوائری افسر شعبہ فزیالوجی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر تاثیر کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا جو خالد عراقی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور انہوں نے خالد عراقی کے دوسرے قریبی ساتھی پروفیسر شبیب الحسن سے متعلق رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ یہ کمیٹی 25 مارچ 2024 کو بنائی گئی جس نے اپنی رپورٹ 13 ماہ بعد 30 اپریل 2025 کو انتظامیہ کو جمع کرائی۔

ڈاکٹر تاثیر نے تحریری حکم نامے میں ڈاکٹر شبیب الحسن کے خلاف بڑی کارروائی کی سفارش، شوکاز مسترد کرنے اور جبری ریٹائرمنٹ تک معاملات پہنچائے، سزا میں جبری ریٹائرمنٹ تجویز دی گئی تاہم اس پوری کارروائی پر عمل درآمد سے پہلے ہی ڈاکٹر شبیب الحسن کو مہلت دی گئی کہ اگر وہ جوائن کر لیں جامعہ کراچی کو اعتراض نہیں ہوگا اور اس لیٹر کے موصول ہوتے ہی ڈاکٹر شبیب الحسن نے جامعہ کراچی میں جوائنگ دے دی۔

انکوائری افسر ڈاکٹر تاثیر کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ فزیالوجی کی جانب سے تیار کردہ انکوائری رپورٹ میں شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے جس میں جبری ریٹائرمنٹ، مالی ریکوری اور پنشن فوائد معطل کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

انکوائری آفیسر کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر سید شبیب الحسن کو 3 جولائی 2017 سے 2 جولائی 2020 تک تین سال کی فارن سروس لیو دی گئی تھی تاکہ وہ ہمدرد یونیورسٹی کراچی میں وائس چانسلر کی ذمہ داریاں انجام دے سکیں، بعد ازاں اس چھٹی میں مزید دو سال کی توسیع کرتے ہوئے اسے 2 جولائی 2022 تک بڑھا دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منظور شدہ فارن سروس لیو ختم ہونے کے باوجود پروفیسر نے جامعہ کراچی میں اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کے لیے واپسی اختیار نہیں کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں فوری طور پر ڈیوٹی جوائن کرنے کے احکامات جاری کیے لیکن انہوں نے نہ صرف یونیورسٹی واپس آنے سے گریز کیا بلکہ سرکاری خطوط کا جواب بھی نہیں دیا۔

بعد ازاں 28 ستمبر 2022 کو انہیں باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تاہم وہ اس کا جواب بھی جمع نہ کرا سکے اور نہ ہی حاضر ہوئے۔ 25 مارچ 2024 کو جامعہ کراچی ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن آرڈیننس 1962 کے تحت چارج شیٹ بھی جاری کردی گئی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق ان پر درج ذیل الزامات ثابت قرار دیے گئے: شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 3 جولائی 2022 کے بعد وہ کم از کم دو سال تک بغیر اجازت غیر حاضر رہے جس کے باعث ان کی پنشن کے لیے سروس پیریڈ میں 2017 سے 2022 تک کی فارن سروس لیو شامل نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید یہ کہ ان کی سالانہ انکریمنٹس 2016 اور 2017 کو بھی پنشنری فوائد کے لیے روکنے یا منجمد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق ڈاکٹر سید شبیب الحسن سے 10 لاکھ روپے کی رقم بھی ریکور کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو انہوں نے بانڈ کے تحت ادا کرنا ہوگی یا ان کے ضامنوں سے وصول کی جائے گی۔

انکوائری آفیسر نے یونیورسٹی آف کراچی ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن آرڈیننس 1962 کی شق 3(c) اور 3(h) کے تحت کارروائی شروع کرنے اور شق 4(1)(c) کے مطابق 3 جولائی 2022 سے جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دینے کی سفارش کی ہے تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حتمی سزا سے قبل پروفیسر کو آخری موقع دیا جائے کہ وہ جامعہ کراچی میں آکر اپنی ملازمت دوبارہ جوائن کریں بصورت دیگر جبری ریٹائرمنٹ کی سزا نافذ کردی جائے۔

رپورٹ کے آخر میں واضح کیا گیا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر عائد الزامات بدستور مؤثر اور قابلِ عمل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے