Screenshot_2025_0709_042714

جامعہ کراچی ایک بار پھر انتظامی فیصلوں اور متنازع بھرتیوں کے باعث سوالات کی زد میں آگئی ہے۔ جامعہ کی انتظامیہ نے سندھ حکومت کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے کنٹریکٹ پر ملازمین کی بھرتی شروع کردی ہے، جہاں ایوننگ پروگرام میں کنٹریکٹ ملازمین کو مبینہ طور پر خلاف ضابطہ بھرتی کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صورتحال انتہائی حیران کن ہے کیونکہ ایک طرف جامعہ کراچی کی انتظامیہ مستقل اور پہلے سے تعینات کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا نہیں کر پارہی جبکہ پینشن کی رقم کا اجراء بھی تاخیر کا شکار ہے، لیکن دوسری جانب من پسند افسران کے قریبی عزیزوں کی بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس عمل سے جامعہ پر مزید مالی بوجھ پڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

تحقیقات ڈاٹ کام نے جب اس معاملے پر ڈائریکٹر فنانس جامعہ کراچی جہانزیب سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھرتیوں کی تصدیق تو کردی، تاہم مؤقف دینے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ملازمین کی بھرتی ہوئی ہے لیکن اس پر کوئی جواب نہیں دے سکتا ہوں، جس کے بعد شکوک و شبہات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کو واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ نئی ملازمتوں کی مستقل یا عارضی بھرتی سے قبل لازمی منظوری حاصل کی جائے گی، جس کے بعد ہی تقرریاں کی جاسکیں گی، تاہم جامعہ کراچی نے ان حکومتی احکامات کو عملاً نظر انداز کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی منظوری سے ایوننگ پروگرام میں ڈائریکٹر ایوننگ کی سفارش پر ERP کنسلٹنٹ عمر نصر اور احمد اشرف کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت ڈائریکٹر ایوننگ ڈاکٹر شبیب الحسن ہیں جو موجودہ وائس چانسلر خالد عراقی کے قریبی ساتھی تصور ہوتے ہیں اور جامعہ کراچی میں مضبوط لابی کے متوقع وائس چانسلر کے امیدوار بھی بتائے جاتے ہیں۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ جامعہ کراچی پہلے ہی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی میں مستقل تاخیر معمول بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں افسران اور ان کے عزیز و اقارب کو نوازنے کے اقدامات جامعہ کراچی کو مزید مالی بحران میں دھکیل سکتے ہیں، جس پر اساتذہ اور ملازمین میں شدید تشویش پائی جارہی ہے اور جامعہ کی مالی و انتظامی شفافیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اس ضمن میں تحقیقات ڈاٹ کام نے جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر فنانس سید جہانزیب سے رابطہ کیا اور ان سے کنٹریکٹ ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ہے اور اس حوالے سے پبلک ریلیشنز کے حکام ہی کوئی جواب دے سکیں گے مجھے نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کے نام بھی یاد نہیں ہی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے