Screenshot_2026_0224_071219

کیا لوکل فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی آڑ میں منشیات کا عالمی نیٹ ورک پاکستان میں متحرک ہوچکا ہے ؟کراچی میں ایف آئی اے کے بعد لاہور ائیرپورٹ پر نائجیریا جانے والے سامان سے کروڑوں روپے مالیت کی تیار ممنوعہ ٹراماڈول ضبط کرلی گئی ہے۔

کیا کسٹم ،اینٹی نارکوٹکس فورس ،ایکسائز ڈپارٹمنٹ اور اب ایف آئی اے میں درج مقدمات اس نیٹ ورک پر اثر انداز ہوسکتے ہیں؟

دو برس میں درج مقدمات کا متن اور دفعات یکساں ،عدالت میں تفتیش غیر قانونی جعلی دوا بغیر رجسٹریشن کے فروخت کے گرد گھومتی نظر آئے گی؟

کیا ٹراماڈول 225 ملی گرام اور 250 ملی گرام دوا ہے تو پھر عالمی ڈرگ ریگولیٹری حکام نے اس پر پابندی کیوں لگائی؟کیا یہ افہیم نہیں ؟اور منشیات کی اعلی کوالٹی کے طور پر استعمال نہیں ہوتی ؟

کیا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے ڈرگ انسپکٹرز ٹراماڈول کا خام مال منگوانے والی کمپنیوں سے ماہانہ رپورٹ نہیں مانگ سکتی ؟

کیا ایف آئی اے اس زاوئیے پر تحقیقات کر سکتی ہے کہ بھارت میں ٹراماڈول کا خام مال کنٹرول ہونے کے بعد 2023 کے آخر میں نائجیریا کا وہ ڈرگ کارٹیل کا اہم کردار فیڈرک پاکستان کیوں آیا ؟اور کون سی فارما کمپنی کے مالک نے اپنے انڈین چینل کے زریعے اس سے نائیجریا میں ملاقات کی پھر اسے پاکستان آنے کی دعوت دی پھر کراچی ائیرپورٹ پر کس فارما کمپنی کے مالک نے کراچی آنے اور پھر جانے کے دوران پروٹوکول بھی دیا اور دبئی میں اس نیٹ ورک کی سرپرستی تاحال کی جا رہی یے؟جہاں یہ پاکستان میں تیار ہونے کے بعد دو گناہ زائد قیمت میں ہر وقت فروخت کے لئے موجود رہتا ہے ۔؟

منشیات اسمگلنگ کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب ہونے کے باوجود کیوں قانونی گرفت سے باہر ہے؟کیا یہ وفاقی اداروں کی ناقص تفتیش کا نتیجہ ہے ؟یا معاملہ کہیں طے شدہ ہے کہ صرف کارکردگی دکھانا ہے؟

ایف آئی اے نے 19 فروری کو سپر ہائی وے کے قریب واقع احسن آباد صنعتی ایریا کے پلاٹ نمبر 236 پر چھاپہ مارا اور ایف آئی اے کے مطابق اس مقام پر جعلی دوا تیار کی جارہی تھی اس کارروائی میں یہاں موجود ملازمین نے بیان دیا کہ سارا مال مشینری نوری آباد میں موجود (CIBA Pharma)کا ہے اور اس کا سائٹ آفس طارق روڈ چورنگی کے قریب سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہے جس پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم نے یہاں سے بھی سامان ضبط کیا اور اس گودام نما فیکٹری میں موجود ملازمین کو گرفتار کرلیا جبکہ کمپنی کا مالک تاحال گرفتار نہیں ہوسکا ۔یاد رہے کہ ماضی میں کسٹم ہو یا اے این ایف کسی کے مقدمے میں اس کارٹیل کا کوئی مالک گرفتار نہیں ہوا پہلے وہ حفاظتی ضمانت لیتا ہے پھر وہ تفتیش میں شامل ہوتا ہے جبکہ ملازمین ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں جیل سے ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں ؟اس کارروائی میں اصل کام ایف آئی اے کی تفتیش پر منحصر ہے کہ جس فارما سیوٹیکل کمپنی کا نام آیا ہے اس کمپنی نے امپورٹ ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق ٹراماڈول کا خام مال منگوایا نہیں تو پھر اس بڑی تعداد میں اس کمپنی کے پاس خام مال کہاں سے آیا ؟اور جب 22 نومبر 2025 کو نوری آباد حیدرآباد انڈسٹریل ایریا میں جہاں یہ کمپنی ڈریپ کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ ہے وہاں سروے کے دوران جب ممنوعہ ٹراماڈول کی تیاری پکڑی گئی اور پھر کمپنی سربمہر کی گئی تو کمپنی میں سے مشین اور خام مال نکل کر احسن آباد انڈسٹریل ایریا گلشن معمار کیسے پہنچا؟

ایف آئی اے نے اپنی کارکردگی دکھائی ٹی وی میں خبر نشر ہوئی کہ جعلی ادویات تیار کرنے والی فیکٹری پکڑی گئی اور ایف آئی آر کا متن بھی تفتیش کو اسی رخ پر لے جانے والا ہے ۔

کیا ایف آئی اے اپنی تفتیش اس رخ پر کرسکتی ہے کہ ڈیڑھ برس میں لوکل فارما کمپنیوں نے ایک لاکھ 68 ہزار کلو گرام دو ارب سے زائد مالیت کا ٹراماڈول خام مال درآمد کیا جس پر 11 کروڑ سے زائد ٹیکس ڈیوٹی ادا ہوئی یہ رقم ان لوکل فارما کمپنیوں کے پاس کہاں سے آئی ؟جو کمپنیاں زیادہ خام مال درآمد کرنے میں ملوث ہیں ان کے مالکان ماضی میں ان کی مالی حیثیت پر بھی سوالیہ نشان ہے ۔

کیا یہ معاملہ سادہ ہے ؟کیا کوئی ادارہ جنوری 2025 سے فروری 2026 کے درمیان مختلف اداروں کی کارروائیوں میں پکڑی جانے والی ٹراماڈول کے مقدمات تفتیش اور انکوائریوں کو یکجا کر کے دیکھ سکتے ہیں کہ سب میں یکساں کردار کون ہے ؟اور وہ کردار اب بھی آزاد گھوم رہا ہے مختلف اداروں کے سربراہان کے ساتھ آئے دن سوشل میڈیا پر تصاویر جاری کرتا ہے وہ شخص جو 20 سے 25 برس قبل موٹر سائیکل پر گھومتا تھا اب فیکٹریوں کا مالک ہے؟

کیا ایف آئی اے اپنے مقدمے میں صرف وہ خام مال جو امپورٹ ہو کر آیا وہ کن کمپنیوں نے منگوایا اس ہر کتنی ٹیکس ڈیوٹی ادا کی گئی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے زریعے کیا ریکارڈ مانگ سکتا ہے کہ اس خام مال کے عیوض کتنی پروڈکشن ہوئی اور کہاں کہاں سپلائی ہوئی کیا بیچ نمبر تھا کتنی فروخت ہوچکی اور کتنا اسٹاک ابھی باقی یے؟

پاکستان میں ٹراماڈول کا خام مال (Pharma raw material hydrochloride usp) میں پاکستان کسٹم ٹیرف (2922.5000) میں کلئیر ہوتا ہے اور لوکل فارما کمپنیوں نے لیکوئیڈ اور پاؤڈر دونوں طریقوں سے استعمال کے لئے منگوایا جاتا ہے 2024 جنوری سے نومبر 2025 کے درمیان امپورٹ ڈیٹا مختلف لوکل کمپنیاں سامنے آئی ہیں ان کمپنیوں میں (plivia pharmaاور MBL)کا مالک سلمان سلیم ہیں اور ڈریپ کے ریکارڈ کے مطابق plivia کمپنی بلوچستان حب میں ہے اور ان کا سائٹ آفس نیو ایم اے جناح روڈ پر داؤد انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے ساتھ گلی میں جمشید کوارٹر پولیس اسٹیشن کے سامنے واقع ہے اور اسی مالک کی دوسری کمپنی MBL بھی رجسٹرڈ ہے جو کراچی کے علاقے صدر میں عبداللہ ہارون روڈ کے قریب واقع پانارما سینٹر کے ایک دفتر کے نام پر اس کا پتہ ہے لیکن یہ کمپنی عملی طور پر وہاں موجود نہیں ہے اور یہ دونوں کمپنیاں ٹراماڈول کے خام مال کی پاکستان میں سب سے بڑی سپلائر سمجھیں جاتی ہیں جو قانون کے مطابق جرم ہے لیکن ڈریپ حکام نے آج تک اس کمپنی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی ہے۔امپورث ڈیٹا کے مطابق ان دونوں کمپنیوں کے نام پر 50 ہزار کلو سے زائد ٹراماڈول کا خام مال منگوایا گیا۔

وفاقی اداروں کی ناقص تفتیش سے ممنوعہ ٹراماڈول کا خام مال بلوچستان حب ،حیدراباد سمیت سندھ کے دیگر اضلاع ،جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع تک منتقل ہوچکا ہے جہاں اس سے ممنوعہ ٹراماڈول کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے کیونکہ اس کی تیاری میں عام سی دوا ساز مشینری کا استعمال ہوتا ہے جو پورے پاکستان میں کہیں بھی بآسانی دستیاب ہے ۔اصل مسئلہ تفتیشی اداروں کا ہے جو کسی بھی تیار مال کو پکڑنے سے زیادہ اگر امپورٹ ڈیٹا اور جن کمپنیوں نے یہ خام مال منگوایا ان سے ریکارڈ مانگ لیں اور اپنی تفتیش کا دائرہ اس تک ہی محدود کرلیں تو اس نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی ممکن ہوسکتی ہے؟

فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی آڑ میں منشیات اسمگلنگ کے ایک منظم، طاقتور اور بین الاقوامی نیٹ ورک کے رابطے یورپ، افریقی اور عرب ممالک میں غیر معمولی طور پر مضبوط ہوچکے ہیں۔ تحقیقات سے یہ ہوشربا انکشاف سامنے آیا ہے کہ محض ڈیڑھ برس کے دوران ٹراماڈول کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال 20 برس کے ممکنہ اسٹاک کے برابر پاکستان منگوا لیا گیا تاہم ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (DRAP) فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے دباؤ کے باعث اسے کنٹرول دوا کی فہرست میں شامل کرنے میں ناکام رہی یے۔

ذرائع کے مطابق خام مال کی درآمد میں تقریباً تمام لوکل فارما سیوٹیکل کمپنیاں ملوث ہیں۔ ان کمپنیوں کے مالکان میں پولیس کے اعلیٰ افسران، فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن کے سابق عہدیداران، بڑے فارم ہاؤسز اور گائے بھینسوں کے کمیلے رکھنے والے بااثر افراد شامل ہیں۔

تحقیات ڈاٹ کام نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سے دو مرتبہ ڈیٹا حاصل کیا۔ اس ڈیٹا کے مطابق جنوری 2024 سے نومبر 2025 کے دوران پاکستان میں قائم فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے مجموعی طور پر 1 لاکھ 68 ہزار کلوگرام ٹراماڈول کا خام مال درآمد کیا، جبکہ پاکستان کی مجموعی سالانہ قانونی ڈیمانڈ صرف 5 سے 10 ہزار کلوگرام ہے، جو 380 سے زائد فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے لیے 50 ملی گرام اور 100 ملی گرام کی تیاری کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں ٹراماڈول کی قانونی رجسٹریشن صرف 50 ملی گرام سے 100 ملی گرام تک ہے، اس سے زائد مقدار کی تیاری پر عالمی پابندی عائد ہے۔

دو برس قبل تک ٹراماڈول کی تیاری اور اسمگلنگ کا عالمی حب بھارت تھا، جہاں بھارتی حکام نے اس خام مال کو کنٹرول کیا۔ اس کے بعد یہ گھناؤنا کاروبار پاکستان منتقل ہوگیا۔ لوکل فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے ایک منظم نیٹ ورک نے خطرناک حد تک ٹراماڈول کا خام مال پاکستان منگوا لیا، جس کے بعد پاکستان سے ایکسپورٹ کی آڑ میں سمندری راستوں کے ذریعے نائیجیریا سمیت افریقی، یورپی اور عرب ممالک کو اسمگلنگ شروع ہوگئی۔

تحقیقات کے مطابق عرب ممالک کے لیے ٹراماڈول فضائی راستے سے کھیپئیوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے، جہاں 225 ملی گرام اور 250 ملی گرام کی پیکنگ تبدیل کر کے جیبوں میں بھر کر لے جائی جاتی ہے اور کھیپئے اپنے ٹکٹ کا خرچ نکال لیتے ہیں۔

ٹراماڈول کا خام مال دراصل افیون کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے، جو ہیروئن کی اعلیٰ کوالٹی کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ عالمی اداروں نے اس کی حد 50 اور 100 ملی گرام اس لیے مقرر کی کہ اس سے زائد مقدار میں انسانی کیفیت تبدیل ہوجاتی ہے، جاگنے اور تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افریقی ممالک، جہاں داعش، قبائلی تصادم اور وار لارڈز سرگرم ہیں، وہاں اس کی مانگ زیادہ ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے روٹس پر بھی اس مقدار کی ٹیبلیٹس کی طلب بڑھ چکی ہے، جبکہ دیگر ممالک میں اس کا استعمال جنسی تسکین کے لیے کیا جا رہا ہے۔

خام مال منگوانے والی لوکل کمپنیوں میں PLIVIA Pakistan، MEDI SURE Pakistan، MBL Pharma، INVERTOR Pharma، MEDI MARKERS، MEDI CRAFTS، SAMI Pharma، THE SEARLE، M/S SWISS، JAVED Chemical، M/S PARKAR، ASTELLAS Pharma سمیت دیگر شامل ہیں۔

یہ رپورٹ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی آڑ میں منشیات اسمگلنگ کا ایک منظم، بااثر اور عالمی نیٹ ورک سرگرم ہے، جسے ریاستی اداروں کی کمزوری، بااثر شخصیات کی پشت پناہی اور قانون کی بے بسی نے مزید طاقتور بنا دیا ہے۔

اسی طرح MEDISURE Pakistan کے مالک ڈاکٹر قیصر وحید ہیں، جو فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی فیکٹری گلشن معمار کے عقب میں واقع سائٹ سپر ہائی وے احسن آباد صنعتی ایریا میں جبکہ گودام اور سائٹ آفس پرانی سبزی منڈی کے قریب واقع ہے۔ ان کے نام پر ٹراماڈول کے خام مال کی بھاری مقدار منگوائی گئی جبکہ کمپنی کے پاس 50 اور 100 ملی گرام کی رجسٹریشن موجود ہے۔واضح رہے کہ MEDISURE LABORATORIES PAKISTAN کی مارچ 2021 سے کوشش ہے کہ وہ ٹراماڈول 225 ملی گرام کی ایکسپورٹ رجسٹریشن اور لائسنس حاصل کر سکے جس کے لئے اس کمپنی نے نائیجیریا کمپنی کا سہارا لیا اور 2021 میں سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی تھی جسے سندھ ہائی کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کو ٹراماڈول 225 ملی گرام گولیوں کی برآمد کے لیے اضافی دستاویزات طلب کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور محض درخواست دینے سے کسی کمپنی کو برآمدی این او سی کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہو جاتا۔

یہ فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ اور جسٹس یوسف علی سید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 17 مارچ 2022 کو سنایا تھا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ DRAP کے دائرہ اختیار میں ادویات تیار کرتی ہے، جن میں ٹراماڈول ایچ سی ایل پر مشتمل درد کش دوا ’ٹرامیکنگ‘ شامل ہے، جو مختلف طاقتوں میں تیار کی جاتی ہے، جن میں 225 ملی گرام بھی شامل ہے۔

کمپنی نے نائیجیریا کو ٹرامیکنگ 225mg کے 10 ہزار پیکٹس برآمد کرنے کے لیے DRAP سے اجازت (NOC) طلب کی تھی۔ تاہم DRAP نے این او سی جاری کرنے کے بجائے 30 جون 2021 کے ایک خط کے ذریعے کمپنی سے نائیجیریا میں اس دوا کی رجسٹریشن کا ثبوت اور خریدار کی جانب سے دستخط شدہ پرچیز آرڈر طلب کیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ماضی میں اسی دوا کی متعدد کھیپیں DRAP کی اجازت سے نائیجیریا برآمد کی جا چکی ہیں،نئی شرط عائد کرنا غیر قانونی، امتیازی اور ماضی کی پریکٹس کے خلاف ہے،کمپنی کو ماضی کی بنیاد پر legitimate expectation حاصل ہے،ڈریپ اضافی شرائط عائد کر کے کاروبار میں غیر ضروری رکاوٹ ڈال رہا ہے

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے اپنے وکیل کے زریعے جواب دیا تھا کہ محض درخواست دینے سے کوئی قانونی حق پیدا نہیں ہوتا،ٹراماڈول کے غلط استعمال اور غیر قانونی تجارت کے حوالے سے اقوام متحدہ (UNODC)، انٹرپول اور نائیجیریا کے اداروں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں،نائیجیریا میں ٹراماڈول کے غیر طبی استعمال اور اسمگلنگ میں اضافے کے باعث پالیسی سخت کی گئی،ڈریپ اتھارٹی کے 112ویں او 115ویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ برآمد سے قبل دوا کی درآمدی ملک میں رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کی تصدیق لازمی ہوگی۔جس پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ این او سی ایک مراعات ہے، حق نہیں ہے۔پالیسی میں تبدیلی درخواست کے دوران بھی لاگو ہو سکتی ہے،ڈریپ کا خط حتمی حکم نہیں بلکہ صرف اضافی دستاویزات کی طلبی ہے،اتھارٹی کا فیصلہ عوامی مفاد، بین الاقوامی خدشات اور قانونی دائرہ اختیار کے مطابق ہے،عدالت پالیسی معاملات میں ریگولیٹری اتھارٹی کی جگہ اپنا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتی ہے،عدالت نے درخواست کو بے بنیاد، قبل از وقت اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جبکہ تمام متفرق درخواستیں بھی خارج کر دی تھیں۔

 

سال2025 کے آغاز میں صوبائی ایکسائز کی گھگھر پھاٹک کے قریب کارروائی ہو، یا کسٹمز کی کورنگی صنعتی ایریا میں ماروی فارماسیوٹیکل پر چھاپہ، یا ابراہیم حیدری میں ان کے گودام (جو لوکل کمپنی IBL کے نام پر رجسٹرڈ ہے) پر کارروائی ہر جگہ 225 اور 250 ملی گرام کی دوائیں برآمد ہوئیں۔ انہی دنوں اتفاقیہ طور پر ڈاکٹر قیصر وحید کا بیٹا راحیل بیرون ملک (دبئی) روانہ ہوگیا تھا اور معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد واپس آیا۔

بعد ازاں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی نے لیاری بس اڈے پر چھاپے کے دوران بس اڈے کے گودام سے ٹراماڈول کی 225 ملی گرام اور 250 ملی گرام ضبط کی تھی جس کی پیکنگ وہی تھی جو ماروی فارما اور اس کے گودام سے ملی تھی۔ بس اڈے کے مالک کے مطابق یہ مال ایران کے قریب پاکستانی علاقے کے لیے بک کیا گیا تھا اور ایک سوزوکی ڈرائیور یہ سامان دے کر گیا تھا۔

29 جولائی 2025 کو ایف آئی اے نے MEDISURE LABORATORIES Pakistan کے سبزی منڈی دفتر پر چھاپہ مارا تھا اسی علاقے میں وہی سوزوکی ڈرائیور بھی مل گیا جو لیاری بس اڈے پر بکنگ کروانے آیا تھا۔ ایف آئی اے نے راحیل اور سوزوکی ڈرائیور کو ساتھ لے کر سپر ہائی وے، گلشن معمار کے عقبی علاقے میں واقع فیکٹری پر چھاپہ مارا، تاہم اس وقت فیکٹری کے ساتھ خالی پلاٹ پر موجود 20 فٹ کا کنٹینر جل رہا تھا، جس میں وہی پیکنگ جلائی جا رہی تھی جو پہلے برآمد ہوچکی تھی۔ شواہد ضائع ہونے کے باعث ایف آئی اے قانونی کارروائی آگے نہ بڑھا سکی اور نیٹ ورک ایک بار پھر بچ نکلا۔

اسی نیٹ ورک میں حیات آباد پشاور میں واقع MEDI CRAFTS Pharmaceutical، M/S PARKAR (ایم ڈی ہمایون عمران، منیجر: فہد وہسار)، INVERTOR Pharma (مالک: امتیاز احمد، سائٹ سپر ہائی وے)، THE SEARLE Company (مالک: سید ندیم احمد) اور MEDI MARKERS (حیدرآباد سائٹ ایریا، مالک: عائشہ عابد) شامل ہیں۔ یہ تمام کمپنیاں گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، اسپین اور بھارت سے بڑی مقدار میں ٹراماڈول کا خام مال درآمد کرتی رہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان کمپنیوں کو فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن کے بعض موجودہ و سابق عہدیداران کی مکمل سرپرستی حاصل ہے جبکہ بے نامی پارٹنرز میں حاضر سروس پولیس افسران شامل ہیں جو وفاقی اور صوبائی سطح پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان کمپنیوں کے مالکان کے فارم ہاؤسز ہی وہ مقامات ہیں جہاں غیر قانونی کاروبار، ترسیل اور تقسیم کے فیصلے طے پاتے ہیں۔

یہ رپورٹ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ پاکستان میں ٹراماڈول کی آڑ میں صرف منشیات نہیں بلکہ ریاستی رٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریگولیٹری نظام کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس نیٹ ورک کے اصل سہولت کاروں تک کبھی ہاتھ ڈالا جائے گا یا یہ ایک اور فائل بن کر بند ہو جائے گی؟