Screenshot_2025_1204_223248

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے افسران کے خلاف ممکنہ من مانی، انتقامی اور تادیبی کارروائی کو سختی سے روکتے ہوئے ایک نہایت اہم عبوری حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ متعلقہ حکام عدالتی احکامات کی مکمل اور بلا چون و چرا تعمیل کے پابند ہوں گے اور آئندہ سماعت تک درخواست گزار افسران کے خلاف کسی بھی قسم کا منفی، انتقامی یا تادیبی اقدام نہیں اٹھایا جا سکتا۔

عدالت نے برطرفی یا ملازمت سے ہٹانے کی کسی بھی کوشش پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے یہ بھی واضح کر دیا کہ افسران کی تنخواہوں کی ادائیگی بلاجواز روکی نہیں جا سکتی۔ عدالتی حکم کے مطابق این سی سی آئی اے افسران کی تنخواہیں فوری طور پر جاری کی جائیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی تاخیر، رکاوٹ یا ٹال مٹول ناقابل قبول ہوگی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی اس بروقت مداخلت نے انتظامی عجلت، جلد بازی اور ممکنہ اختیارات کے ناجائز استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سرکاری اہلکاروں کے خلاف کسی بھی نوعیت کی کارروائی آئین، قانون اور طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہونی چاہیے، بصورت دیگر ایسا اقدام بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی تصور ہوگا۔

عدالت نے درخواست گزاروں کو واضح عدالتی تحفظ فراہم کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور آئندہ سماعت تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ تمام سرکاری اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قانونی جواز کے بغیر نہ تو تنخواہیں روکی جا سکتی ہیں اور نہ ہی ملازمین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ 2007 میں قائم کیا گیا تھا، جو اب این سی سی آئی اے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 2007 سے سائبر کرائم انویسٹی گیشن کے لیے حکومت کی جانب سے بھرتی کیے گئے 100 فیصد اسٹاف ممبران کنٹریکٹ پر تعینات ہیں۔
2012 میں خورشید شاہ کمیٹی کے ذریعے جن افراد کو ریگولر کیا گیا، بعد ازاں محکمے نے انہی افراد کا اسٹیٹس واپس کنٹریکٹ پر منتقل کر دیا۔ پاکستان میں سائبر کرائم کی تاریخ میں آج تک ایک بھی سائبر کرائم بھرتی کو ترقی نہیں دی گئی۔

دوسری جانب ایف آئی اے کے وہی افسران ترقی پا گئے جنہیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ سائبر کرائم کے تفتیش کار کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے کے بعد ریگولر ہو گئے تو براہ راست اسسٹنٹ ڈائریکٹر یا ڈپٹی ڈائریکٹر بن کر آنے والوں کی سنیارٹی متاثر ہو جائے گی۔ اسی خوف کے تحت عدالتی مقدمات بھی دائر کیے گئے۔

2007 کے بعد سائبر کرائم میں صرف دو بھرتیاں ہوئیں 2012 اور 2020۔ یہ صورتحال اس وقت انتہائی مایوس کن دکھائی دیتی ہے جب ملک بھر میں سائبر کرائم دفاتر کو ایک سال میں ہزاروں شکایات موصول ہوتی ہیں، جبکہ اس وقت پورے پاکستان میں صرف 15 تھانوں کے ساتھ نچلے عملے سمیت محض 455 اہلکار تعینات ہیں۔

ہر ماہ اور ہر سال کیس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اعلیٰ درجے کے پی ایس پی افسران کو مکمل ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے، جس سے پاکستان میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان اور دستیاب افرادی قوت کی شدید کمی بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ وسائل کی کمی اپنی جگہ، مگر المیہ یہ ہے کہ سائبر کرائم کے غریب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے والے افسران کی تنخواہیں ہی روک دی گئیں۔

اسی تناظر میں موجودہ این سی سی آئی اے افسران پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے، جبکہ دوسری جانب انہی نوعیت کے الزامات سے پولیس سروسز پاکستان (پی ایس پی) افسران کو بچا لیا گیا۔

این سی سی آئی اے ایک نئی شناخت ضرور ہے، مگر اس کی اصل تاریخ ان افسران نے لکھی ہے جو 2007، 2012 اور 2020 سے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہی وہ سائبر ڈیفنڈر ہیں جنہوں نے پاکستان بھر میں تمام بڑے اور کامیاب کیسز کیے اور آج بھی ہر روز یہی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد زونز میں ہر تفتیش کار کے پاس اوسطاً کم از کم 1500 کیسز موجود ہیں، جو ایک خطرناک اور تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت ہزاروں نئے اسٹاف کی بھرتی کا منصوبہ بنا رہی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی موجودہ کنٹریکٹ اسٹاف سے جان چھڑانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ ان میں وہ افسران بھی شامل ہیں جنہوں نے 2007 میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی بنیاد رکھی تھی۔ 18 سال تک بغیر کسی پروموشن کے سروس دینے کے بعد اب انہیں گھر جانے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔
ریاستی محاذ پر فرنٹ لائن سپاہی
سائبر کرائم کا عملہ ریاست کے لیے براہ راست کارروائیوں میں شامل ہے۔ یہ تفتیش کار چائلڈ پورنوگرافی، ڈیجیٹل ہراسمنٹ، غیر قانونی سمز، آن لائن گھوٹالوں، ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خاتمے اور عوامی آگاہی کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے ملک بھر میں ایک بڑے آپریشن کے دوران بدعنوان ملازمین کو پہلے ہی برطرف کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر اداروں میں یہی کرپٹ افسران آج بھی اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔

ماہرین کے مطابق این سی سی آئی اے کے پاس نادرا کی طرح اپنا خودمختار ایچ آر سسٹم بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے، بشرطیکہ حکومت اچھی کارکردگی کو سراہنے، پرانے تجربے سے فائدہ اٹھانے اور شفاف انداز میں نئے عملے کی بھرتی کی پالیسی اپنائے۔

اب سب کی نظریں آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں ،جہاں فیصلہ صرف افسران کا نہیں، بلکہ پاکستان کے سائبر سیکیورٹی مستقبل کا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے