کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کرپٹ ایڈمنسٹریٹرز کے خلاف قانونی کارروائیوں میں رکاوٹ ،شہریوں کی کروڑوں کی سرمایہ کاری کو ڈوبنے والے سرکاری افسران دوبارہ تعیناتی کے لئے سرگرم ہوگئے ،الحبیب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں منتخب باڈی لانے کے بجائے دوبارہ کرپٹ افسران نے تعیناتی کے لئے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے ۔کرپث ایڈمنسٹریٹر گزشتہ 20 برس سے سوسائٹی میں انتخاب کرانے میں رکاوٹ ہیں اور توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔


الٰحبیب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ میں گزشتہ بیس (20) سال سے مینجمنٹ کمیٹی کے انتخابات نہ ہونے کا انکشاف سامنے آگیا ہے، جبکہ عدالتی احکامات کے باوجود سوسائٹی میں ترقیاتی کام نہ ہونے پر الاٹیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔الحبیب سوسائٹی کے رہائشی پروفیسر احسان ولیم سمیت 60 سے زائد مکینوں کے دستخط سے چیف جسٹس ،نیب ،سندھ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رجسٹرار سمیت دیگر اداروں کو درخواست ارسال کردی گئی ہے جس پر تمام رہائشیوں کے دستخط موجود ہیں۔
اس ضمن میں سندھ ہائی کورٹ نے مورخہ 11-05-2010 کو آئینی درخواست نمبر 1004/2010 اور سی پی نمبر D-3651/2010 میں جائز اراکین کی فہرست مرتب کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے مورخہ 26-02-2015 کو HRC نمبر 12509-S/11 اور CMA نمبرز 241-K اور 358-K/13 میں نئی مینجمنٹ کمیٹی کے لیے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا واضح حکم جاری کیا۔ تاہم ان احکامات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
سال 2016 میں نوٹیفکیشن نمبر SO(C-1)16(21)/94(Pt-1) مورخہ 22-12-2016 کے ذریعے منصور احمد صدیقی کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا تاکہ وہ 90 دن کے اندر انتخابات کرائیں، مگر وہ مقررہ مدت میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے تقریباً نو سال تک اپنی مدت برقرار رکھی، لیکن اس دوران پانی، سیوریج، بجلی، گیس، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے کوئی مؤثر ترقیاتی کام نہ ہو سکا۔
بعد ازاں سال 2025 میں نوٹیفکیشن نمبر SO(C-1)16(21)/94(Pt-1) مورخہ 06-02-2025 کے ذریعے محمد حنیف اُترو کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا جنہیں تین (03) ماہ کے اندر انتخابات کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم وہ بھی 90 دن کے اندر انتخابات کرانے میں ناکام رہے۔ الاٹیوں کا مؤقف ہے کہ انہیں اپنے پلاٹس کے تحفظ کے نام پر دو کروڑ 25 لاکھ روپے طلب کیے گئے، جو ان کی استطاعت سے باہر تھا۔
رہائشیوں کے مطابق دونوں ایڈمنسٹریٹرز سوسائٹی کی زمین کو قبضہ مافیا سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہے، بلکہ سڑکیں بند کروا کر الاٹیوں کو مشکلات میں ڈال دیا گیا۔ ٹرانسفر، میوٹیشن، سیل ڈیڈ، لیز ڈیڈ، ڈبل لیز، غیر قانونی قبضے، تجاوزات کے خاتمے، اصل نقشے کے مطابق پلاٹس اور سڑکوں کی حد بندی، سہولتی پلاٹس (PB-I، PB-II اور تمام ST پلاٹس سوائے مسجد کے) کی بحالی، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق معاملات، سیوریج لائنز، واٹر کنکشن، گیس کنکشن، سڑکوں کی کٹائی یا بندش اور رہائشی علاقے میں تجارتی سرگرمیوں جیسے اہم مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پلاٹس کا مکمل ریکارڈ بمعہ تفصیلات تقریباً بیس سال قبل سابقہ مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے ناظر سندھ ہائی کورٹ کے پاس جمع کرایا جا چکا ہے، لہٰذا الاٹیوں سے دوبارہ دستاویزات طلب کرنا غیر ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق نیا ریکارڈ مرتب کرنا لاحاصل مشق ہوگی کیونکہ سابقہ غیر قانونی مینجمنٹ کمیٹی کے دور میں جعلسازی کا امکان بھی موجود ہے۔
مزید برآں، ایڈمنسٹریٹرز پر کوآپریٹو سوسائٹیز میں تقرری سے متعلق SOPs (نوٹیفکیشن نمبر SO/SA/CD/MISC/2025/192 مورخہ 21-08-2025) کی خلاف ورزی اور انتخابات کے واضح مینڈیٹ کو نظر انداز کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
رہائشیوں نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ایڈمنسٹریٹر کو فوری مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کی جائے تاکہ توہین عدالت سے بچا جا سکے، مزید وقت ضائع کیے بغیر گزشتہ بیس سال کا مکمل آڈٹ کرایا جائے اور جائز اراکین کی فہرست کے مطابق جلد از جلد شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
الاٹیوں کا کہنا ہے کہ سوسائٹی کے اکاؤنٹس میں موجود فنڈز کو شفاف طریقے سے استعمال کیا جائے اور ترقیاتی کاموں کا آغاز فوری کیا جائے تاکہ دو دہائیوں سے جاری جمود کا خاتمہ ہو سکے۔