Screenshot_2026_0227_142724

کراچی کی معروف تعمیراتی کمپنی GFS Builders & Developers ایک سنگین مالی اور قانونی تنازع میں پھنس گئی ہے، جہاں ایک جانب کمپنی نے اپنے ہی اکاؤنٹ آفس سے منسلک 5 ملازمین پر 60 کروڑ روپے کے غبن کا الزام عائد کیا ہے، تو دوسری جانب انہی ملازمین نے کمپنی انتظامیہ پر حبسِ بے جا، تشدد اور جبری دستخط کروانے جیسے سنگین الزامات لگا دیے ہیں۔

بوٹ بیسن تھانے میں GFS Builders & Developers کے اکاؤنٹ ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے 5 ملازمین حماد، عمیر، انیس، جواد اور بلال کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 98/26 درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں ان ملازمین پر 5 کروڑ 60 لاکھ 55 ہزار 144 روپے کی خوردبرد کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ 18 فروری کو درج کیا گیا، تاحال کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا تاہم گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ اندرونی آڈٹ کے دوران بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس کے بعد قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

دوسری طرف نامزد ملازمین نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ GFS Builders & Developers میں ان کی اپنی 12 کروڑ روپے سے زائد کی انویسٹمنٹ موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنی سرمایہ کاری کی واپسی کا تقاضا کیا تو انہیں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ کمپنی کے گارڈز نے ایک دن سے زائد حبسِ بے جا میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

ملازمین کے مطابق جب انہوں نے اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا تو اس کے بعد کمپنی کے مالک نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔

اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب 7 فروری کو حماد کی والدہ عشرت اسلم قریشی نے چیف جسٹس پاکستان کو ایک تفصیلی خط تحریر کیا، جس کی کاپی عدالت، پولیس اور نیب کو بھی ارسال کی گئی۔

خط میں عشرت خاتون نے Irfan Wahid اور Mansoor Wahid پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ وہ سیکٹر 11A کی رہائشی ہیں اور ان کا بیٹا حماد گزشتہ 8 برس سے کمپنی کا ملازم ہے۔ ان کے مطابق بلڈر اس کے کام سے خوش تھا اور اسے کار اور ایک گھر بھی تحفے میں دیا گیا تھا۔

عشرت خاتون کے مطابق جی ایف ایس بلڈرز میں حماد کے ڈھائی کروڑ روپے، اس کے بہنوئی اویس کے چار کروڑ سے زائد اور دیگر عزیز و اقارب کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے جو مجموعی طور پر 12 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔

خط میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ 19 دسمبر 2025 کو ایم ڈی منصور واحد، طیب خان، حسن زیدی، داود مغل اور عظمت نے حماد کو ایک دن تک حبسِ بے جا میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران اس پر زبردستی 60 کروڑ روپے کے غبن کا الزام عائد کیا گیا۔

عشرت خاتون کے مطابق 9 کروڑ روپے کی ادائیگی کے اسٹامپ پیپر پر زبردستی دستخط کروائے گئے اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ تشدد کرنے والوں نے انعام میں دی گئی گاڑی کی واپسی کا مطالبہ کیا، جس پر بتایا گیا کہ وہ گاڑی فروخت کرکے انویسٹمنٹ میں شامل کی جاچکی ہے۔ اس کے بعد مبینہ طور پر حماد کو مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گھر کے کاغذات منگوا کر بالآخر اسے چھوڑ دیا گیا۔

عشرت خاتون نے چیف جسٹس پاکستان، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور ڈی جی نیب سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور GFS Builders & Developers کے مالکان کے خلاف شفاف تحقیقات کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ معاملہ اب قانونی معرکے کی شکل اختیار کرچکا ہے، جہاں ایک طرف کروڑوں روپے کے غبن کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف حبسِ بے جا، تشدد اور جبری دستخط کے سنگین الزامات۔ اصل حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ مالی بدعنوانی کا کیس ہے یا سرمایہ کاری کی واپسی مانگنے پر انتقامی کارروائی؟

اب نظریں پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی پر مرکوز ہیں، جو اس تنازع کی اصل تصویر سامنے لائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے