ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبید اللہ ملک کو ارسال کردہ مراسلے میں میڈیکل ڈیوائسز اینڈ میڈی کیٹڈ کاسمیٹکس (MDMC) ڈویژن میں میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ منظوریوں میں مبینہ تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔


خط کے مطابق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو موصول شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایم ڈی ایم سی ڈویژن کی جانب سے رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے جس کے باعث مقامی امپورٹرز کے کاروبار اور مریضوں کو ضروری طبی آلات اور صحت سے متعلقہ سامان کی بروقت فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

مراسلے میں بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں وزیر اعظم، وفاقی وزیر اور ڈریپ نے میڈیکل ڈیوائسز کے پرانے مینول اور نیم ڈیجیٹل نظام کو ختم کرنے کیلئے آن لائن ایم ڈی ایم سی لائسنسنگ و پروڈکٹ رجسٹریشن پورٹل کا افتتاح کیا تھا۔اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مینوفیکچررز اور امپورٹرز کو اپنی ریگولیٹری درخواستیں آن لائن جمع کرانے اور ان کی نگرانی کی سہولت فراہم کی گئی۔
اس سے قبل پاکستان میں میڈیکل ڈیوائسز کی ریگولیشن مینول طریقہ کار کے تحت ہوتی تھی جس میں منظوری کے مراحل طویل وقت لیتے تھے۔ ڈریپ نے میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 نافذ کیے تھے جنہیں جولائی 2025 میں ڈیجیٹل پورٹل کے اجرا سے مزید مضبوط بنایا گیا۔وفاقی حکومت نے اس پورٹل کے ذریعے منظوریوں کا عمل تیز کرتے ہوئے 20 دن کے اندر اجازت نامے جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق پورٹل کے اجرا کو چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا،ایم ڈی ایم سی ڈویژن مکمل طور پر آن لائن رجسٹریشن پر منتقل نہیں ہوااور اب بھی پرانا طریقہ کار جاری ہےاس کے نتیجے میں مقامی امپورٹرز کی ہزاروں درخواستیں ڈریپ میں زیر التواء پڑی ہیں۔
مقامی امپورٹرز نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر کے باعث ضروری میڈیکل مصنوعات اور ہیلتھ کیئر سپلائیز کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے جس کا براہ راست اثر مریضوں کے علاج اور صحت کی سہولیات پر پڑ رہا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سی ای او ڈریپ سے مطالبہ کیا ہے کہ شکایات کی فوری تحقیقات کی جائیں۔یہ واضح کیا جائے کہ 8 سے 9 ماہ بعد بھی پرانا نظام کیوں چل رہا ہے،ایم ڈی ایم سی ڈویژن کو ہدایات جاری کی جائیں۔
آن لائن پورٹل کے مطابق بروقت منظوریوں کو یقینی بنایا جائے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق قانون کی بلا امتیاز عملداری ہی کرپشن کے خاتمے اور زیرو ٹالرینس کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ وہ خود شکایت کنندہ نہیں بلکہ وسل بلوور کے طور پر کام کرتی ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-A کے تحت عوام کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں سرکاری ادارے عوامی معاملات کیسے چلا رہے ہیں۔
خط میں سپریم کورٹ کے 16 اکتوبر 2023 کے فیصلے (مختار احمد علی بنام رجسٹرار سپریم کورٹ) کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں قرار دیا گیا معلومات تک رسائی اب کسی رعایت کا نام نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف غیر جانبدار اور غیر منافع بخش اتحاد کے طور پر کام کر رہی ہے اور حکومتی اداروں میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے آرٹیکل 19-A کے تحت معلومات تک رسائی کے حق کو فروغ دے رہی ہے۔