Screenshot_2025_0807_220552

کراچی کی خصوصی عدالت کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ایک اور بڑی ناکامی بے نقاب کر دی۔ عدالت نے 11 سال قبل درج کروڑوں روپے کے مبینہ سیلز ٹیکس فراڈ کیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور ملزم سید فراز علی کو باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایف بی آر کی ناقص قانونی کارروائی اور قانون سے لاعلمی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 11 کے تحت کسی بھی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہی نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایف بی آر نے محض جھوٹی ایف آئی آر پر مقدمہ بنا کر عدالت کا وقت ضائع کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ میں نہ تو کسی ایڈجیوڈیکیشن کا ذکر ہے اور نہ ہی ٹیکس ذمہ داری کے تعین کی کوئی کارروائی کی گئی۔ حتیٰ کہ تفتیشی افسر نے بھی عدالت میں اعتراف کیا کہ اسے کسی اسسمنٹ یا ایڈجیوڈیکیشن سے متعلق علم ہی نہیں۔

خصوصی عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے فیصلے (4 دسمبر 2024، سول اپیل نمبر 350 تا 698) میں واضح کر چکی ہے کہ جب تک ٹیکس ذمہ داری قانونی طریقہ کار کے تحت طے نہ ہو، صرف ایف آئی آر درج کرنا اور گرفتاری عمل میں لانا غیر قانونی ہے۔

عدالت نے ایف بی آر کی قانونی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر کارروائی ختم کر دی اور سید فراز علی کو باعزت بری کر دیا۔

قانونی اور ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایف بی آر برسوں سے محض ایف آئی آرز اور کمزور ریفرنسز کے ذریعے ٹیکس فراڈ کیسز قائم کرتا رہا ہے مگر قانونی تقاضے پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت سب سے پہلے ٹیکس ذمہ داری کا تعین اور ایڈجیوڈیکیشن لازم ہے، لیکن ایف بی آر کی نابلدی اور غیر سنجیدہ رویے نے نہ صرف عدالتوں کا وقت ضائع کیا بلکہ ملزمان کو فائدہ پہنچایا۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر ایف بی آر اپنی قانونی کارروائی میں بہتری نہ لایا تو ایسے مزید کیسز بھی عدالتوں میں ناکامی کا شکار ہوں گے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچتا رہے گا۔