
جامعہ کراچی، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی، انتظامیہ 4 برس سے مستقل توہینِ عدالت میں ملوث
جامعہ کراچی کی انتظامیہ ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی فورمز کے فیصلوں کو روندتے ہوئے گزشتہ چار برس سے مسلسل توہینِ عدالت کی مرتکب ہورہی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود انتظامی عہدوں پر او پی ایس، ریٹائرڈ اور کنٹریکٹ افسران کی تعیناتیاں بدستور جاری ہیں۔
16 مارچ 2021 کو سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے آئینی درخواست نمبر 4435/2020 اور 5842/2020 میں فیصلہ دیا کہ کسی بھی جامعہ کے انتظامی عہدوں پر فیکلٹی ممبر کو اضافی چارج، او پی ایس، اسائنمنٹ یا نگران کی حیثیت سے تعینات کرنا قانوناً ممنوع ہے۔ایسی تقرریاں نہ صرف یونیورسٹی ایکٹ اور سروس رولز کے خلاف ہیں بلکہ میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
اس فیصلے کے بعد اُس وقت کے چیف سیکرٹری سندھ نے 26 مارچ 2021 کو یونیورسٹی اینڈ بورڈ ڈپارٹمنٹ کے اجلاس میں تمام سرکاری جامعات کو فوری خطوط ارسال کیے اور واضح ہدایت دی کہ عدالتی فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کیا جائے۔ سندھ کی 30 میں سے 29 جامعات نے عدالتی حکم کی روشنی میں غیرقانونی افسران کو ہٹا دیا، لیکن جامعہ کراچی نے عدالتی اور حکومتی احکامات کو یکسر مسترد کر دیا۔
رجسٹرار، سیمسٹر سیل اور کنٹرولر ایگزامینیشن جیسے کلیدی عہدے آج بھی عدالتی حکم کے برعکس پُر ہیں۔سابق کنٹرولر امتحانات ظفر حسین کو ریٹائرمنٹ سے 8 ماہ قبل مستقل تعینات کیا گیا اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر برقرار رکھا گیا، جو عدالتی فیصلے کی صریح توہین ہے۔سندھ حکومت کو بارہا آگاہ کرنے کے باوجود جامعہ کراچی کی انتظامیہ کسی قسم کا عملدرآمد کرنے سے انکاری ہے۔
ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ میں عالم کی نشست پر تعینات معظم قریشی مبینہ سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے غیرقانونی افسران کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان پر ماضی میں بھی امتحانات میں نقل کے دوران پکڑے جانے اور یو ایف ایم کمیٹی کی کارروائی کا سامنا کرنے کے الزامات ہیں۔شیخ الجامعہ خالد عراقی کے گرد ریٹائرڈ پروفیسروں اور کنٹریکٹ افسران کا مخصوص ٹولہ موجود ہے جو عدالتی فیصلوں کو سبوتاژ کرکے غیرقانونی تعیناتیوں کو برقرار رکھنے میں پیش پیش ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق جامعہ کراچی کی یہ روش آئین پاکستان کے آرٹیکل 189 اور 190 کی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلے پورے ملک میں حتمی اور واجب التعمیل ہیں۔
سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کی عدم تعمیل براہِ راست آرٹیکل 204 کے تحت "توہینِ عدالت” کے زمرے میں آتی ہے۔سندھ حکومت کے لیے بھی یہ صورتحال سوالیہ نشان ہے کہ 29 جامعات فیصلوں پر عمل کرچکیں لیکن جامعہ کراچی کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
جامعہ کراچی سندھ کی واحد جامعہ بن گئی ہے جو گزشتہ چار برس سے عدالتی فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف قانون بلکہ آئین پاکستان کا مذاق اڑا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے فوری ازخود نوٹس نہ لیا تو یہ معاملہ دیگر اداروں کے لیے بھی خطرناک مثال بن سکتا ہے۔
ممکنہ قانونی کارروائی کی صورت میں آرٹیکل 204 کے تحت یہ براہِ راست توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے، جس پر سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کارروائی کرسکتی ہے اگر عدالتی نوٹس لیا گیا تو وائس چانسلر خالد عراقی، رجسٹرار اور دیگر متعلقہ افسران کو:توہین عدالت پر اگر عدالت فیصلہ سناتی ہے تو انہیں چھ ماہ تک قید یا جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے ۔عدالتی احکامات نہ ماننے پر انہیں عہدوں سے برطرف بھی کیا جا سکتا ہے۔بار بار عدالتی احکامات کی نافرمانی پر انہیں نااہل قرار دے کر مستقبل میں کسی بھی سرکاری یا تعلیمی عہدے پر تعیناتی سے روک دیا جا سکتا ہے۔