NCCIA

وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے فنکشنل رولز 2025 جاری کر دیے ہیں اور پہلی بار سائبر کرائمز کو براہِ راست انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) کے دائرہ کار میں شامل کر کے ایجنسی کو تاریخی اور غیر معمولی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

 

نوٹیفکیشن کے مطابق این سی سی آئی اے کو اب یہ قانونی حق حاصل ہوگا کہ وہ سائبر کرائمز میں ملوث افراد کے بینک اکاؤنٹس، منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں اور ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر سکے۔ مزید یہ کہ ایجنسی نہ صرف تفتیش بلکہ براہِ راست استغاثہ دائر کرنے کا بھی اختیار رکھے گی، جو ماضی میں کسی بھی تحقیقاتی ادارے کو میسر نہیں تھا۔

ماہرین کے مطابق سب سے بڑا اور متنازع اضافہ یہ ہے کہ اب سوشل میڈیا پر جھوٹی یا گمراہ کن معلومات پھیلانے کو بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح کی ڈس انفارمیشن مہم سے حاصل شدہ آمدنی کو مالی جرم شمار کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا صارفین کو کڑی قانونی نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نئے فریم ورک کے تحت این سی سی آئی اے کے اندر کئی اسپیشلائزڈ یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں احتساب یونٹ،ڈیجیٹل فرانزک یونٹ،میڈیا یونٹ،ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ یونٹ،او ایس آئی این ٹی (OSINT) یونٹ شامل ہیں

ترمیم شدہ قوانین کے تحت شیڈول ون میں تبدیلیاں اور سیکشن 15 کا اضافہ بھی کیا گیا ہے، جس میں براہِ راست چائلڈ پورنوگرافی، اغواء، شناختی چوری، ڈیجیٹل فراڈ اور غیر قانونی سمز کا اجراء شامل کر لیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان میں سائبر کرائمز کے خلاف مضبوط قانونی فریم ورک فراہم کرے گا، جس سے نہ صرف تحقیقات تیز ہوں گی بلکہ احتساب اور نگرانی بھی سخت تر ہو جائے گی۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہ قانون ریاست کو ڈیجیٹل دنیا پر بے مثال کنٹرول دے گا، جس پر آئندہ بحث اور تنقید یقینی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے