جامعہ کراچی کے وائس چانسلر خالد عراقی کے قریبی ریٹائرڈ افسران کی پسند و ناپسند پر مبنی فیصلوں نے جامعہ کے تین اہم میرین ریسرچ اداروں کو شدید انتظامی اور تعلیمی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق من پسند ٹولے کو نوازنے کے لیے قوانین اور سروس رولز کی کھلی خلاف ورزیاں کی گئیں، یہاں تک کہ مبینہ طور پر گرین کارڈ ہولڈر خاتون کو بیرونِ ملک چھٹیوں پر ہونے کے باوجود ترقی اور الاونسز جاری کیے گئے۔
جامعہ کراچی کےمیرین ریسورس کولیکشن اینڈ ریسرچ سینٹر (MRCRC)
انسٹیٹیوٹ آف میرین سائنس (IMS)
سینٹر آف ایکسیلینس اِن میرین بایولوجی (CEMB)
کی موجودہ زبوں حالی کے پس پردہ ایک ریٹائرڈ افسر مرزا قدیر محمد علی کا کردار کلیدی بتایا جا رہا ہے، جنہیں شیخ الجامعہ کی جانب سے مسلسل نوازا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی سرپرستی کے باعث خلافِ ضابطہ ترقی پانے والے عناصر مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق MRCRC میں میوزیم ٹیکنیشن سے لیکچرر گریڈ 18 تک پہنچنے والی فرحانہ شفیق غوری رواں سال کی پہلی فارن سروس لیو (FSL) پر بیرونِ ملک روانہ ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل وہ گزشتہ دس برس کے دوران مسلسل بیرونِ ملک، بالخصوص امریکہ، آتی جاتی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں امریکی گرین کارڈ بھی مل چکا ہے۔واضح رہے کہ 2025 میں فارن سروس لیو (FSL) پر جانے والے ناپسندیدہ کرداروں کو شیخ الجامعہ سینڈیکیٹ اجلاس کے زریعے ملازمتوں سے برخاست کر چکے ہیں تاہم شیخ الجامعہ یا ان کے ریٹائرڈ دوستوں کی پسندیدہ فہرست میں شامل کردار تاحال عہدوں پر ترقیوں کے ساتھ برقرار ہیں۔
اداروں میں نااہل اور غیر اہل افسران کی تعیناتی کے باعث جامعہ کراچی میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ اس کی واضح مثال فرحانہ شفیق غوری کا کیس ہے، جس میں ٹائم پے اسکیل،پوسٹ اپ گریڈیشن
اور سلیکشن بورڈ کے بغیر ترقی
جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق 25 جولائی 2000: فرحانہ شفیق غوری بطور میوزیم ٹیکنیشن (BPS-16) تعینات ہوئیں، جو نان آفیسر کیڈر تھا۔25 جولائی 2013 انسینٹو ٹائم پے اسکیل اسکیم کے تحت BPS-17 دیا گیا۔17 مارچ 2014 ٹیکسانومسٹ (BPS-17) کے عہدے پر تعیناتی ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ17 جنوری 2019 کو انہوں نے لیکچرر (BPS-18 کے مساوی) کے عہدے پر جوائننگ دی،مگراس حوالے سے کوئی باضابطہ آفس آرڈر جاری نہیں کیا گیااور نہ ہی کسی مجاز اتھارٹی یا سیکشنل ہیڈ کی منظوری موجود ہے۔اس کے باوجود انہیں لیکچرر کے مساوی گریڈ دے دیا گیا، جو سروس رولز اور قانونی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ذرائع کے مطابق فرحانہ شفیق غوری لیکچرر کے عہدے کے لیے سلیکشن بورڈ میں ناکام رہیں، اس کے باوجود انہیں گریڈ 18 دیا جانا ایک غیر قانونی اور مشکوک اقدام ہے۔
ریٹائرڈ افسر کا مرکزی کردار
انکشاف ہوا ہے کہ اس تمام عمل کے پیچھے مرزا قدیر محمد علی کا مرکزی کردار ہے، جنہوں نے:
نان آفیسر کیڈر کی سروس کو آفیسر کیڈر میں شامل کیا،
2015 میں لی گئی مشکوک فارن سروس رخصت کو سروس لینتھ میں شمار کیا۔
اہم بات یہ ہے کہ ریذیڈنٹ آڈیٹر نے فرحانہ شفیق غوری کی پے فکسیشن پر واضح اعتراض اٹھایا، تاہم جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے:
اعتراضات کو نظرانداز کیا،
گریڈیشن اور ترقی برقرار رکھی،
اور قانونی تقاضوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔
سوالات جو جواب طلب ہیں کہ نان آفیسر کیڈر کی سروس آفیسر کیڈر میں کیسے شامل کی گئی؟
سلیکشن بورڈ کے بغیر لیکچرر گریڈ کیسے دیا گیا؟
آڈیٹر کے اعتراض کے باوجود پے فکسیشن کیسے منظور ہوئی؟
سینئر اور اہل افسران کو دانستہ طور پر کیوں نقصان پہنچایا گیا؟
یہ کیس ادارہ جاتی بدانتظامی، اقرباپروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک کھلی مثال ہے، جس پر اعلیٰ حکام، گورنر سندھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر احتسابی اداروں کی فوری توجہ اور غیرجانبدار تحقیقات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
When I can meet you
have lot of infirmations
Associate Professor
Centre of Excellence in Marine Biology
KU