کراچی میں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے فارماسیوٹیکل کمپنی کی آڑ میں مبینہ طور پر عالمی منشیات نیٹ ورک چلانے کے الزام میں CIBA Pharmaceutical کے مالکان سمیت آٹھ ملزمان کی ضمانت منسوخ کردی ہے۔ عدالت کے فیصلہ سنانے سے قبل ہی کمپنی کے چار مالکان کمرہ عدالت سے نکل کر فرار ہوگئے جبکہ چار ملازمین پہلے ہی جیل میں قید ہیں۔
منگل کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران ٹراماڈول کے خام مال کو عالمی منشیات نیٹ ورک کے لیے استعمال کرنے کے الزام میں نامزد CIBA Pharmaceutical کے چار مالکان رضا خالد، ضیاء خالد، اسامہ اور خالد اختر کی عبوری ضمانت مسترد کردی گئی۔
اسی درخواست میں پہلے سے گرفتار کمپنی کے ملازمین سعد خان، علی نواز، شفیق احمد اور مرزا فیصل علی بیگ کی ضمانت کی درخواست بھی عدالت نے مسترد کردی۔
ذرائع کے مطابق عدالت کے فیصلہ سنانے سے چند لمحے قبل ہی کمپنی کے مالکان کمرہ عدالت سے باہر نکل گئے اور باہر آتے ہی فرار ہوگئے، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کی ٹیم نے احسن آباد کے صنعتی علاقے میں قائم ایک گودام پر چھاپہ مارا تھا جہاں CIBA Pharmaceutical کے مالکان اور ملازمین مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے Tramadol کی ہائی ڈوز تیار کر رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ تیار شدہ منشیات افریقی ممالک سمیت عالمی منشیات نیٹ ورک کو فروخت کی جاتی تھیں۔
مزید دستاویزی شواہد سے یہ بھی سامنے آیا کہ CIBA Pharmaceutical کے نام سے امپورٹ ڈیٹا میں کبھی بھی ٹراماڈول کا خام مال درآمد نہیں کیا گیا۔
نومبر 2025 میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے فیڈرل انسپکٹر ڈرگ نے نوری آباد میں قائم کمپنی میں غیر قانونی طریقے سے ٹراماڈول کی تیاری پکڑی تھی جس کے بعد اس فیکٹری کو سیل کردیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بعد ازاں سیل کی گئی کمپنی سے مشینری اور خام مال نکال کر احسن آباد کے صنعتی علاقے کے ایک گودام میں منتقل کردیا گیا جہاں خفیہ طور پر منشیات کی تیاری جاری رکھی گئی۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹراماڈول کے خام مال کی سب سے زیادہ درآمد کرنے والی کمپنیوں میں Pilivia Pharmaceutical اور Medisure شامل ہیں۔ حیران کن طور پر Pilivia Pharmaceutical کے پاس ٹراماڈول کی رجسٹریشن بھی موجود نہیں ہے، اس کے باوجود یہی کمپنی مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے ٹراماڈول کا خام مال مقامی سطح پر فروخت کرنے میں ملوث ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سنگین معاملے کے باوجود ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، اینٹی نارکوٹکس فورس، کسٹمز اور ایف آئی اے کی جانب سے تاحال اس کمپنی کے خلاف کوئی بڑی کارروائی سامنے نہیں آئی، جس سے کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔