Screenshot_2025_1215_194025

ایف آئی اے کراچی کے تمام سرکلز اور زونل ہیڈکوارٹر کے مختلف شعبہ جات کو ایک ہی عمارت میں منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا دفتر کراچی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں منتقل کیا جائے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ 11 مارچ 2008 کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹر لاہور میں ہونے والے ہولناک بم دھماکے کے بعد اس وقت کی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام سرکلوں کو ایک ہی عمارت میں رکھنے کی پالیسی کو غیر اعلانیہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ اسی پالیسی کے باعث کراچی میں ایف آئی اے کے لیے تیار عمارت میں آج تک تمام دفاتر اکٹھے نہیں کیے جا سکے تھے۔

تاہم اب ایف آئی اے کراچی کو سینٹرلائزڈ کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کراچی کی معروف شاہراہ آئی آئی چندریگر روڈ پر سٹی اسٹیشن کے سامنے حبیب بینک لمیٹڈ کے ہیڈکوارٹر سے متصل کراچی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کے 160 سے زائد کمروں میں ایف آئی اے کے تمام سرکلز منتقل کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی کی جانب سے پہلے مرحلے میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم کو اس عمارت میں جا کر اپنے لئے کمرے منتخب کرنے اور دفتری امور انجام دینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی رپورٹ پر تین ماہ قبل ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم نے کراچی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کو واگزار کرایا تھا اور مقدمہ درج کیا تھا۔ اس مقدمے میں کراچی کاٹن ایکسچینج ایسوسی ایشن کے نمائندوں، کراچی میونسپل کارپوریشن لینڈ ڈپارٹمنٹ کے افسران اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے افسران کو نامزد کیا گیا تھا۔

اس کارروائی کے خلاف پہلے کراچی میونسپل کارپوریشن اور بعد ازاں کراچی کاٹن ایکسچینج ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، جہاں اس معاملے پر فیصلہ سنایا جانا باقی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے 4 مارچ بروز بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں کراچی کاٹن ایکسچینج کی تاریخی عمارت سے متعلق اہم کیس میں Federal Investigation Agency (ایف آئی اے) کی فوجداری کارروائیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

یہ درخواستیں Karachi Metropolitan Corporation (کے ایم سی) اور Karachi Cotton Exchange (کے سی ای) کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں Evacuee Trust Property Board (ای ٹی پی بی) کی شکایت پر ایف آئی اے کی کارروائی، عمارت کو سیل کرنے اور بے دخلی کے احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے نے اس معاملے میں کے سی ای ایسوسی ایشن، کے ایم سی اور ای ٹی پی بی کے بعض اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ ملزمان کئی دہائیوں سے کراچی میں متروکہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ، لیز اور اس سے مالی فائدہ حاصل کر رہے تھے۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو مؤقف دیا کہ نہ تو ای ٹی پی بی اور نہ ہی ایف آئی اے کو کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت پر کوئی قانونی اختیار حاصل ہے کیونکہ یہ عمارت 22 جولائی 1936 کو ایک رجسٹرڈ کنویئنس ڈیڈ کے تحت کراچی کاٹن ایکسچینج کو لیز پر دی گئی تھی اور یہ لیز سال 2081 تک مؤثر ہے۔

وکیل کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد متروکہ املاک کا معاملہ صوبائی دائرہ اختیار میں آچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سندھ ایویکیوئی ایکٹ نافذ ہونے کے بعد Evacuee Trust Properties Act 1975 کی وہ شقیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں جو وفاقی حکومت اور ای ٹی پی بی کو سندھ میں اختیار دیتی تھیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ Pakistan (Administration of Evacuee Property) Act 1957 کے تحت یکم جنوری 1957 کے بعد کسی بھی جائیداد کو متروکہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے بقول زیر بحث عمارت کبھی بھی متروکہ نہیں رہی بلکہ تقسیم ہند سے پہلے سے مسلسل زیر استعمال ہے اور اس پر کسی قسم کا متروکہ یا ٹرسٹ کردار لاگو نہیں ہوتا۔

وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اگر اس عمارت سے متعلق کوئی تنازع موجود بھی ہو تو اس کا فورم سول عدالت ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام نے بغیر کسی نوٹس اور سماعت کے کارروائی کی، جو بدنیتی اور قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل کے مطابق اس معاملے میں ایف آئی اے کی مداخلت بھی دائرہ اختیار سے تجاوز ہے کیونکہ اس کیس کا وفاقی امور سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ اس کارروائی سے درخواست گزاروں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور کپاس کی تجارت کے شعبے میں بھی خلل پیدا ہو رہا ہے۔

سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ، جس کی سربراہی Justice Adnanul Karim Memon کر رہے تھے، نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے اس کیس کو انکوائری میں تبدیل کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ عدالت نے صوبائی قانون کی موجودگی میں ایف آئی اے کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔

دوسری جانب ای ٹی پی بی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمارت کو ای ٹی پی بی نے سیل کیا ہے جبکہ ایف آئی اے نے اس کارروائی میں معاونت فراہم کی۔

تاجروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عمارت کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ تاجر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔

عدالت اس سے قبل عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کراچی کاٹن ایکسچینج کے حکام کو سیل شدہ عمارت تک رسائی کی اجازت دے چکی ہے اور ایف آئی اے کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس رسائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے۔
اب جبکہ عدالت کی کارروائی پر تحریری فیصلہ جاری ہونا باقی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف آئی اے کی انتظامیہ اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتی ہے جو ممکنہ طور پر توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہو۔

دوسری جانب 11 مارچ 2008 کو ایف آئی اے لاہور ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا تھا جس میں متعدد اہلکار شہید ہوئے تھے اور اس واقعہ کی برسی ایف آئی اے ہیڈکوارٹر میں منائی گئی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ایف آئی اے کی اس وقت کی انتظامیہ نے واضح فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی عمارت میں تمام سرکل یا ون یونٹ طرز کی پالیسی نہیں اپنائی جائے گی۔
اسی پالیسی کے تحت کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پاکستان ورکس ڈپارٹمنٹ نے ایف آئی اے کے لیے چار منزلہ عمارت تعمیر کی تھی۔ تاہم اس عمارت میں تمام دفاتر منتقل کرنے کے بجائے صرف سائبر کرائم ونگ اور کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کو منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں اسی عمارت میں اینٹی منی لانڈرنگ سیل بھی قائم کیا گیا، جبکہ اب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے سے علیحدہ ہو چکا ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی سیکیورٹی صورتحال اتنی بہتر ہو چکی ہے کہ 18 سال قبل بننے والی اپنی ہی پالیسی کے برخلاف فیصلہ کیا جائے؟

یا پھر سندھ ہائی کورٹ کے تحریری فیصلے سے قبل ہی اس معاملے کو مکمل کرنے کی جلدی ہے؟

قانونی حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر عدالت کا تحریری فیصلہ آنے سے پہلے عمارت میں سرکاری دفاتر منتقل کر دیے گئے تو کیا یہ اقدام توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے