وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کراچی میں زندہ جانوروں کی برآمد کے نام پر عرب ممالک کے جعلی دستاویزات کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے بڑے اسکینڈل میں چھ سال تک مقدمہ درج نہ ہونے کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے مقدمے میں غیر معمولی تاخیر پر دو ڈپٹی ڈائریکٹرز اور دو انسپکٹرز کے خلاف محکمانہ کارروائی کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ہے۔
ایف آئی اے نے تاخیر سے درج ہونے والے مقدمے میں 2019 میں وزارت تجارت میں سیکشن افسر کی حیثیت سے تعینات عمر سلیم بھٹی اور منسٹری آف فوڈز سائنس اینڈ ریسرچ کے ماتحت اینیمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کے افسر اصغر ضیاء کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی منتظر مہدی کی درخواست پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ نے ایف آئی اے کراچی زونل ہیڈکوارٹر میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر کرائم اور کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف محکمانہ کارروائی کے لیے ایف آئی اے حیدرآباد زون میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کرائم سرکل کے طور پر تعینات پی ایس پی افسر سید محمد وسیع حیدر کو فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کرنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ ایف آئی اے کے دو انسپکٹرز کے خلاف بھی باقاعدہ محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں انکوائری نمبر 21/2019 میں مبینہ تاخیری حربے استعمال کیے جانے کے معاملے پر قائم کی گئی ہے۔ جب یہ انکوائری ایف آئی اے کراچی زون میں رجسٹرڈ ہونے کے بعد کارپوریٹ کرائم سرکل کو منتقل کی گئی تو اس وقت کی خاتون افسر آرم یاسر نے اس بڑے اسکینڈل کی انکوائری مکمل کر کے 2020 میں اس انکوائری کو مقدمے میں تبدیل کرنے کے لیے سی ایف آر جمع کرا دی تھی۔
تاہم حیران کن طور پر اس سی ایف آر پر معمولی اعتراضات لگا کر اس انکوائری پر کارروائی روک دی گئی اور نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر اس اہم فائل کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ بعد ازاں 2024 میں یہ فائل دوبارہ کھولی گئی اور ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں اس وقت تعینات انسپکٹر جنید کو ہدایت دی گئی کہ وہ سی ایف آر پر لگائے گئے اعتراضات دور کریں۔
انسپکٹر جنید نے اعتراضات دور کرتے ہوئے نئی سی ایف آر میں بھی مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی اور یہ رپورٹ دسمبر 2024 میں جمع کرا دی گئی، تاہم اس کے باوجود جنوری 2026 تک اس سی ایف آر پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جب یہ فائل ایف آئی اے کراچی کے موجودہ ڈائریکٹر منتظر مہدی کے پاس پہنچی تو انہوں نے مقدمہ درج کرنے سے قبل زونل آفس میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر کرائم سرفراز علی کو ہدایت دی کہ وہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کریں اور یہ واضح کریں کہ اس سی ایف آر کو مقدمے میں تبدیل کیوں نہیں کیا گیا، کن افسران نے تاخیری حربے استعمال کیے اور اس تاخیر سے کس کو فائدہ پہنچا۔
تاہم ڈپٹی ڈائریکٹر کرائم کی جانب سے جمع کرائی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کارپوریٹ کرائم سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو سنے بغیر ہی کلین چٹ دے دی گئی اور رپورٹ ڈائریکٹر آفس میں جمع کرا دی گئی۔ اس رپورٹ کو ایف آئی اے کراچی کے ڈائریکٹر نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔
بعد ازاں ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ کو درخواست کی کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے الگ افسر مقرر کیا جائے جو اس معاملے کی مکمل چھان بین کر کے ذمہ داران کا تعین کرے۔
اس درخواست پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ نے ایف آئی اے حیدرآباد زون میں تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد وسیع حیدر کو فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے تاکہ تاخیر کے ذمہ دار افسران کا تعین کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے انکوائری نمبر 21/2019 کو باضابطہ طور پر مقدمہ الزام نمبر 05/2026 میں تبدیل کر کے درج کر لیا ہے۔ اس مقدمے میں وزارت تجارت کے 2018 میں تعینات سیکشن افسر عمر سلیم بھٹی اور منسٹری آف فوڈز سائنس اینڈ ریسرچ کے ماتحت آنے والے اینیمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کے افسر اصغر ضیاء کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ انکوائری نمبر 21/2019 کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے 31 جولائی 2013 کے فیصلے کے ذریعے پاکستان سے زندہ جانوروں کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی، جسے بعد ازاں ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2016 میں بھی برقرار رکھا گیا تھا۔ تاہم وفاقی حکومت کو مخصوص حالات میں اس پابندی میں نرمی دینے کا اختیار حاصل تھا۔
تحقیقات کے مطابق عبدالقیوم (مالک ایم/ایس AQ Enterprises) اور محمد جاوید (مالک ایم/ایس Jafni Enterprises) نے اس پابندی کو بائی پاس کرنے کے لیے مبینہ طور پر سرکاری افسران کی ملی بھگت سے جعلسازی کا سہارا لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق وزارت تجارت کے اس وقت کے سیکشن آفیسر عمر سلیم بھٹی نے دو جعلی این او سی جاری کیے جن کی بنیاد پر 22 ستمبر 2017 کو تقریباً پانچ ہزار زندہ جانوروں (2500 فی کمپنی) کی برآمد کی اجازت ظاہر کی گئی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ برآمدات کو ڈپلومیٹک کنسائنمنٹ کا لبادہ اوڑھا کر انجام دیا گیا اور اس مقصد کے لیے جعلی یا مشکوک اسپیشل پاور آف اٹارنی بھی استعمال کی گئی۔ ایف آئی اے کے مطابق اس عمل کے ذریعے ایکسپورٹ پالیسی میں عائد پابندی کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔
مقدمے کی دستاویزات کے مطابق اینیمل کوارنٹائن ڈپارٹمنٹ کے اس وقت کے کوارنٹائن افسران اصغر ضیا اور محمد احمد نے بھی مبینہ طور پر جعلی این او سی کی تصدیق کیے بغیر صحت کے سرٹیفکیٹس جاری کیے، جو زندہ جانوروں کی برآمد کے لیے لازمی دستاویزات ہوتے ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مذکورہ سرکاری افسران اور نجی کمپنیوں کے مالکان نے مبینہ طور پر مجرمانہ نیت اور ملی بھگت سے کریمنل بریچ آف ٹرسٹ، فراڈ اور جعلسازی کا ارتکاب کیا۔
مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 409، 420، 468، 471، 109 اور 34 کے ساتھ ساتھ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) بھی شامل کی گئی ہے۔
مقدمے میں نامزد ملزمان میں عبدالقیوم (مالک AQ Enterprises)، محمد جاوید (مالک Jafni Enterprises)، ڈاکٹر محمد احمد (کوارنٹائن افسر)، ڈاکٹر محمد اصغر ضیا (کوارنٹائن افسر) اور عمر سلیم بھٹی (سابق سیکشن آفیسر، وزارت تجارت) شامل ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور زندہ جانوروں کی برآمدات میں ملوث دیگر سرکاری و نجی افراد، وزارت تجارت، کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس مقدمے کی تفتیش ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمائد ارشد بٹ کے سپرد کر دی گئی ہے۔