fia_logo

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سرپلس پول سے آنے والے افسران و ملازمین کو کھپانے کی تیاری کرلی گئی ہے، جس کے نتیجے میں نااہل اور تفتیشی تجربے سے محروم افسران کے ادارے کے اہم اور حساس شعبہ جات میں تعینات ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی حکمت عملی کے تحت سرپلس پول میں موجود افسران کو ایف آئی اے میں ایڈجسٹ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اس عمل نے تقرریوں کے قانونی طریقہ کار، قواعد و ضوابط اور اختیارات کے دائرہ کار سے متعلق کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس پر متعلقہ حلقوں میں تشویش بڑھنے لگی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے میں تقرریوں کے طریقہ کار اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سرپلس پول سے متعلق جاری نوٹیفکیشن کے حوالے سے قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں بھی سامنے آگئی ہیں، جن کے بعد بھرتیوں کے قواعد اور اختیار ات کے استعمال پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے سرپلس پول کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن اس وقت تک ایف آئی اے یا وزارت داخلہ پر لازم نہیں ہوتا جب تک اس کی سفارشات کو باقاعدہ طور پر تقریری اتھارٹی یعنی سیکریٹری داخلہ (گریڈ 17 تا 19) منظور نہ کر دے۔

قانونی ماہرین کے مطابق سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد میں تقرری کے تین واضح طریقے متعین کیے گئے ہیں۔ ان میں ابتدائی تقرری (فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے)، ترقی (پروموشن) اور تبادلے کے ذریعے تقرری (By Transfer) شامل ہیں۔

دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ تبادلے کے ذریعے تقرری کو کسی صورت جذب (Absorption) کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس حوالے سے اعلیٰ عدالتوں کے متعدد فیصلے بھی موجود ہیں جن میں اس اصول کو واضح طور پر بیان کیا جا چکا ہے۔

قواعد کے مطابق تبادلے کے ذریعے تقرری صرف اسی صورت ممکن ہوتی ہے جب ابتدائی تقرری کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو دو مرتبہ ریکوزیشن بھیجی جائے لیکن مسابقتی عمل کے باوجود کوئی موزوں امیدوار دستیاب نہ ہو۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو ریکوزیشن بھجوانے کا عمل ہی شروع نہیں کیا گیا۔

مزید برآں قواعد یہ بھی تقاضا کرتے ہیں کہ متعلقہ محکمے کے ریکروٹمنٹ رولز میں درج تعلیمی قابلیت اور تجربے کی مطابقت کا جائزہ خود متعلقہ محکمہ لے گا، جبکہ امیدواروں کی اہلیت اور موزونیت کا حتمی تعین بھی اسی ادارے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ابتدائی بھرتیوں سے قبل اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سرپلس پول سے این او سی حاصل کرنا تمام وزارتوں اور محکموں کے لیے لازمی ہے، تاہم اس ڈویژن کی جانب سے دی جانے والی سفارشات حتمی یا لازمی نہیں ہوتیں۔

ان قانونی نکات کے منظر عام پر آنے کے بعد ایف آئی اے میں تقرریوں کے طریقہ کار، قواعد کی پاسداری اور اختیارات کے استعمال سے متعلق نئے سوالات جنم لے رہے ہیں اور متعلقہ حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیزی سے شدت اختیار کرتی جا رہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے