Screenshot_2026_0317_131357

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ماتحت پاکستان کسٹمز اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام کراچی پورٹ سے طبی آلات کی امپورٹ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے لگے ہیں، کسٹمز حکام میڈیکل ڈیوائس رولز 2017 کی غلط تشریح کرتے ہوئے امپورٹرز اور ان کے کلئیرنگ ایجنٹس کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پنجاب کے ڈرائی پورٹس سے اسی رولز پر کلئیرنس حاصل کرسکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی موجودگی میں کراچی کے امپورٹرز کے خلاف یک طرفہ کارروائی پر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی اور خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث سپلائی چینز پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، ایسے نازک وقت میں پاکستان کے صحت کے شعبے کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کراچی کی بندرگاہوں پر درآمد شدہ میڈیکل ڈیوائسز کی کلیئرنس کے حوالے سے پیدا ہونے والا ریگولیٹری ابہام ملک میں طبی آلات کی فراہمی کے نظام کو متاثر کرنے لگا ہے۔

صنعتی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور کراچی میں تعینات کسٹمز حکام میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 کی مبینہ طور پر غلط تشریح کر رہے ہیں۔

اس مبینہ طرز عمل کے باعث ضروری طبی آلات کی کلیئرنس میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے، حالانکہ پاکستان میں تقریباً 98 فیصد میڈیکل ڈیوائسز درآمد کی جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں بندرگاہوں پر تاخیر صرف تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ براہِ راست ملک بھر کے اسپتالوں میں طبی آلات کی دستیابی کو متاثر کر سکتی ہے۔

چیپٹر فائیو اور رول 21 درآمد کی واضح اجازت دیتے ہیں۔ پاکستان میں میڈیکل ڈیوائسز کی درآمد میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 کے چیپٹر فائیو کے تحت ریگولیٹ کی جاتی ہے، جو ڈریپ ایکٹ 2012 کے تحت مرتب کیے گئے ہیں۔قانون کے رول 21 کے مطابق اگر کسی درآمد کنندہ کے پاس درج ذیل دستاویزات موجود ہوں۔

ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ معتبر اسٹیبلشمنٹ لائسنس (امپورٹ لائسنس)
اسلام آباد میں ڈریپ ہیڈکوارٹر سے جاری کردہ پروڈکٹ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ
تو وہ قانونی طور پر میڈیکل ڈیوائسز درآمد کرنے اور انہیں کسٹمز کے ذریعے کلیئر کرانے کا مجاز ہے۔ ریگولیٹری فریم ورک میں اس بات کی کوئی شرط موجود نہیں کہ ان دستاویزات کی موجودگی کے باوجود مزید این او سی (NOC) حاصل کی جائے۔

یہ شق خاص طور پر اس لیے متعارف کرائی گئی تھی تاکہ پاکستان میں طبی ٹیکنالوجی کی درآمد کو آسان بنایا جا سکے،کیونکہ ملک بڑی حد تک درآمد شدہ طبی آلات پر انحصار کرتا ہے۔
تنازع کی اصل وجہ میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 کے رول 26 کی تشریح ہے، جو کسٹمز بندرگاہوں پر طریقہ کار سے متعلق ہے۔

رول 26 دراصل ان حالات کے لیے بنایا گیا تھا جب کوئی میڈیکل ڈیوائس رجسٹرڈ نہ ہو، حکام کو اس بات کا معقول شبہ ہو کہ مصنوعات ریگولیٹری تقاضوں پر پوری نہیں اترتی۔ ایسی صورت میں قانون حکام کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ درآمد کنندہ سے حلف نامہ (انڈرٹیکنگ) طلب کریں اور معاملہ مزید جانچ کے لیے ڈائریکٹر میڈیکل ڈیوائسز کو بھجوا دیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رول 26 کو کبھی بھی ان میڈیکل ڈیوائسز پر لاگو کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا جن کے پاس پہلے سے ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور امپورٹ لائسنس موجود ہوں۔ لہٰذا رجسٹرڈ مصنوعات پر اس رول کا اطلاق قانون کے ڈھانچے اور اس کی اصل روح دونوں سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق متنازعہ تشریح اس وقت بنیادی طور پر کراچی ایئرپورٹ اور کراچی سی پورٹ پر نافذ کی جا رہی ہے، جو پاکستان کی اہم ترین تجارتی گزرگاہیں ہیں۔اس کے لئے امپورٹرز کے کلئیرنگ ایجنٹس کو کلکٹر سطح کے افسران مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ لاہور ڈرائی پورٹ یا پنجاب کے کسی شہر کے ائیرپورٹ سے کلئیرنس کروالیں کراچی ائیرپورٹ اور سی پورٹ پر یہ کلئیر نہیں ہوسکتا ہے اس ضمن میں کسٹم حکام نے تحقیقات ڈاٹ کام کو موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب درآمد کنندگان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے دیگر ہوائی اڈوں اور ڈرائی پورٹس پر رجسٹرڈ میڈیکل ڈیوائسز کو رول 21 کے مطابق بغیر کسی اضافی رکاوٹ کے کلیئر کیا جا رہا ہے۔

کراچی کو ملک کی معاشی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے اور ملک کی زیادہ تر درآمدات اسی شہر کے ذریعے ہوتی ہیں۔ اگر کراچی کی بندرگاہوں پر ریگولیٹری رکاوٹیں پیدا ہوں تو اس کے اثرات پورے قومی سپلائی چین پر پڑتے ہیں۔

درآمد کنندگان کے مطابق ایک تشویشناک پیش رفت یہ ہے کہ ڈریپ کا این او سی پاکستان کے کمپیوٹرائزڈ کسٹمز کلیئرنس سسٹم وی بوک (WeBOC – Web-Based One Customs) میں لازمی شرط کے طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت درآمد کنندگان کو کسٹمز کلیئرنس کے لیے کمپیوٹرائزڈ گڈز ڈیکلریشن (GD) جمع کرانا ہوتا ہے۔

صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اب اس سسٹم میں ڈریپ کا این او سی لازمی انٹری کے طور پر مانگا جا رہا ہے، حالانکہ میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 میں رجسٹرڈ مصنوعات کے لیے ایسی شرط واضح طور پر موجود نہیں۔ ان کے مطابق اس ڈیجیٹل شرط نے ایک متنازعہ انتظامی تشریح کو پورے نظام میں عملی رکاوٹ بنا دیا ہے۔
اس صورتحال نے انتظامی احتساب کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈریپ حکام اور کلیکٹر آف کسٹمز کے دفتر کو ایسی پریکٹس متعارف کرانے سے قبل میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 کی متعلقہ شقوں کا مکمل جائزہ لینا چاہیے تھا؟

صنعتی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا متعلقہ حکام نے چیپٹر فائیو اور رول 21 کے قانونی فریم ورک کا مکمل جائزہ لیا؟ سینئر ریگولیٹری حکام سے وضاحت حاصل کی؟ یا اس شرط کو کسٹمز سسٹم میں شامل کرنے کے وسیع اثرات کا اندازہ لگایا؟۔

ماہرین کے مطابق ریگولیٹری قوانین کی غلط تشریح کے ساتھ عملی تبدیلیاں نافذ کرنا تجارت اور صحت کے نظام دونوں پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔خلیجی خطے میں موجودہ جغرافیائی کشیدگی کے باعث بحری راستوں پر پہلے ہی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے کارگو شپمنٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔

ایسے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو تقریباً تمام میڈیکل ڈیوائسز درآمد کرتا ہے، بندرگاہوں پر اضافی رکاوٹیں سنگین قلت پیدا کر سکتی ہیں۔

ملک بھر کے اسپتال سرجری، تشخیص، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت اور ایمرجنسی علاج کے لیے درآمد شدہ طبی آلات پر انحصار کرتے ہیں۔ سپلائی چین میں تعطل کا براہ راست اثر مریضوں کی دیکھ بھال پر پڑ سکتا ہے۔ صنعتی حلقوں نے وفاقی حکومت سے اس معاملے میں فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا فوری جائزہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزارت صحت کی سطح پر لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت کی واضح ہدایت سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے اور ملک کی تمام بندرگاہوں پر یکساں طریقہ کار اپنایا جائے۔

صحت کے نظام کے تحفظ کے لیے واضح قوانین ضروری پاکستان کا صحت کا نظام بڑی حد تک درآمد شدہ طبی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے۔

اسی لیے شفاف، قابلِ پیش گوئی اور قانونی طور پر واضح ریگولیٹری نظام نہ صرف تجارت بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

قانونی فریم ورک سے ہٹ کر انتظامی اقدامات درآمد کنندگان کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں اور اسپتالوں کے لیے طبی آلات کی ممکنہ قلت پیدا کر سکتے ہیں۔
عالمی سپلائی چین کے دباؤ کے اس دور میں پاکستان کسی ایسے ریگولیٹری ابہام کا متحمل نہیں ہو سکتا جو جان بچانے والے طبی آلات کی بروقت فراہمی کو خطرے میں ڈال دے۔

ماہرین کے مطابق وقت کا تقاضا ہے کہ قانون کی واضح تشریح، ادارہ جاتی احتساب اور فوری اصلاحی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے