Screenshot_2026_0313_232351

سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے خلاف گولڈ اسکینڈل کی تحقیقات ایف آئی اے میں دوبارہ شروع ہوگی، رواں برس ایف آئی اے کراچی میں متعدد مقدمات 8 برس قبل انکوائریوں پر درج ہوئے ہیں، سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور ان کی اہلیہ کے خلاف 2022 میں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی میں رجسٹرڈ ہوئی تھی لیکن کارروائی نہیں بڑھ سکی تھی۔

سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ ان کی گورنر شپ کا عہد ختم ہونے کے بعد کیا ایف آئی اے کراچی میں ان کے خلاف انکوائری دوبارہ شروع ہوگی یا تفتیشی افسر مزید انتظار کریں گے۔

واضح رہے کہ دبئی میں گولڈ کے تاجر حنیف مرچنٹ کی درخواست پر ایف آئی اے کراچی میں 2018 میں کارپوریٹ کرائم سرکل میں انکوائری رجسٹرڈ ہوئی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ میسرز انٹرنیشنل ٹاپ کے ساتھ مل کر 24 قیراط کا 4 لاکھ تولہ خالص سونا دبئی سے امپورٹ کیا تھا جسے بعد ازاں زیوارت میں تبدیل کر کے واپس دبئی بھیجنا تھا جو بھیجا نہیں گیا۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کی اس انکوائری پر تفتیشی افسر نے کارروائی نہیں کی تھی تاہم 2021 کے بعد کامران ٹیسوری کے خلاف شکایت درج کرانے والے حنیف مرچنٹ کے قریبی گولڈ ڈیلروں کے خلاف حوالہ ہنڈی کی ایف آئی اے نے کارروائیاں شروع کردی تھیں جس کے بعد کچھ گولڈ ڈیلر نے اپنا کاروبار دبئی منتقل کردیا تھا۔

 

بعد ازاں 2018 میں ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کی اس انکوائری کو نامعلوم وجوہات کی بناء پر بند کردیا گیا تھا لیکن 2022 میں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل میں کامران خان ٹیسوری کی گورنر شپ کے دوران ایک انکوائری نمبر 16/2022 رجسٹرڈ کرلی، اس انکوائری میں ان کی اہلیہ کا نام بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل عملی طور پر ختم کر کے اس سرکل کو کمرشل بینکنگ سرکل میں ضم کیا جانا ہے جس پر ابھی عمل درآمد جاری ہے۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے کراچی کو حنیف مرچنٹ کی جانب سے کافی ٹھوس شواہد جمع کروائے گئے تھے جبکہ انٹر پول نے بھی کامران خان ٹیسوری کے خلاف کارروائی کے لئے حکومت پاکستان کو بھیجا ہوا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ گورنر سندھ کے عہدے سے اترنے کے بعد ایف آئی اے میں کامران خان ٹیسوری کے خلاف کارروائی کی جائے گی یا پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ انکوائری بھی خاموشی سے ختم کردی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے