Screenshot_2026_0803_022824

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی کے رجسٹرار آفس (واچ اینڈ وارڈ سیکشن) میں بطور ‘واچ مین’ (Watchman) فرائض سرانجام دینے والے ملازم محمد فیصل قریشی کی جانب سے میڈیکل گراؤنڈ پر ریٹائرمنٹ کی درخواست کو یونیورسٹی کے پرنسپل میڈیکل آفیسر نے مسترد کر دیا ہے ۔

دستاویزات کے مطابق محمد فیصل قریشی (جن کا پرسنل نمبر 2206 ہے) نے 18 سال تک ملازمت کی ہے اور انہوں نے صحت کی خرابی، بالخصوص ذہنی اور نفسیاتی مسائل (ڈپریشن، فریبِ نظر/Hallucinations، اور اینگزائٹی) کی بنا پر ڈیوٹی سرانجام دینے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کی استدعا کی تھی ۔

فائل میں شامل میڈیکل سرٹیفکیٹس کے مطابق، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کے شعبہ نفسیات کی او پی ڈی سلپ اور ڈاکٹر مبین اختر ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈز اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مریض محمد فیصل قریشی نفسیاتی عوارض کے لیے زیرِ علاج رہے ہیں ۔ کراچی ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ ایک سرٹیفکیٹ (مورخہ 9 مئی 2024) میں بھی یہ درج ہے کہ وہ "Depressive episode Moderate” کا شکار ہیں اور انہیں کام سے آرام کی ضرورت ہے۔

تاہم، 9 جولائی 2024 کو ڈپٹی رجسٹرار (اسٹیبلشمنٹ) کی جانب سے جاری کردہ ایک انٹرنل میمو میں ملازم کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کی میڈیکل گراؤنڈ پر ریٹائرمنٹ کی درخواست کو یونیورسٹی کے پرنسپل میڈیکل آفیسر کی جانب سے ‘سفارش’ (Recommend) نہیں کیا گیا ۔ ملازم نے اپنی ایک ہاتھ سے لکھی درخواست میں بھی شکوہ کیا ہے کہ ان کی ذہنی حالت اور 18 سالہ سروس کے باوجود انہیں میڈیکل ان فٹ قرار دینے یا استعفیٰ منظور کرنے میں انتظامیہ لیت و لعل سے کام لے رہی ہے جس کی وجہ سے وہ پریشانی کا شکار ہیں ۔


تاہم اس کے باوجود نہ تو یونیورسٹی اپنے ایک سابق ملازم کو ریٹائرڈ کر رہی ہے ، نہ ہی سرکاری سطح ہر اس کا علاج معالجہ کر رہی ہے ، واضح رہے کہ فیصل قریشی نے گرومندر میں بوسیدہ مکان میں رہ رہے ہیں اور انہوں نے 2009 میں جامعہ این ای ڈی میں 4099 روپے ماہابنہ پر کنٹریکٹ پر نوکری حاصل کی تھی ، فیصل قریشی کے مطابق 14 ماہ بعد انہیں مستقل کر دیا گیا تھا ، جس کے بعد وہ مسلسل 18 برس جامعہ این ای ڈی میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں ۔

2024 میں انہیں بغیر کسی اطلاع کے نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا ، فیصل قریشی کے مطابق اس کی بیوہ والدہ نے ڈاکٹر حافظ سروش حشمت لودھی سے بھی متعدد بار رابطہ کیا تو ان کا ایک ہی جواب تھا کہ فیصل قریشی نے مجھ سے یا یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے بجائے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم پر احتجاج کیا تھا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے