نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کراچی نے آن لائن فراڈ میں ملوث غیر قانونی کال سینٹر پکڑ لیا 47 ایجنٹ گرفتار اصل مالکان این سی سی آئی اے کی کارروائی سے قبل کال سینٹرز سے چلے گئے تھے ۔کال سینٹر کا نام حال ہی میں Azaan Enterprises کیا گیا پرانے نام Use Inn کا نام اصل دستاویزات میں برقرار ہے ۔
اس کال سینٹر پر 12 برس قبل بھی کارروائی کی گئی تھی جس کے بعد اس کال سینٹر کے مالکان کے ساتھ سابق گورنر سندھ کے بیٹے نے شراکت داری کردی تاہم یہ شراکت داری کسی دستاویز کی صورت میں نہیں ہے اور ان کی شراکت داری اسی بنیاد پر ہے کہ وہ کسی بھی مشکل صورتحال میں مالکان کے خلاف ہونے والی کارروائی سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کے لئے کال سینٹر کے مالکان کی جانب سے ماہانہ 10 ہزار ڈالر وصول کرتا رہا ہے ۔
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے پیر کی شب شارع فیصل پر ٹیکنالوجی پارک کی چوتھی منزل غیر قانونی کال سینٹر سے 47 ایجنٹس کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر 52 ایجنٹس کو نامزد کیا گیا ہے اس کارروائی میں 50 لیپ ٹاپ ،26 موبائل فونز ایک کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسسز ضبط کر کے مقدمے کا حصہ بنا دیا گیا ۔
این سی سی آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل علی ناصر رضوی کی ہدایات پر غیر قانونی کال سینٹر کے زریعے اسکیمنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی ۔
یاد رہے کہ این سی سی آئی اے نے جس کال سینٹر کے خلاف کارروائی کی اس کے خلاف 10 برس قبل بھی اس وقت ایف آئی اے کے ماتحت سائبر کرائم ونگ نے بھی کارروائی کی تھی اور اس وقت یہ کال سینٹر شارع فیصل پر بزنس آرکیڈ میں موجود تھا اسی کارروائی کی وجہ سے سابق گورنر سندھ کا بیٹا اس کال سینٹر کے مالک کا شراکت دار بنا اور اسی بنیاد پر اس وقت صرف تمام افراد کو تنبیہ کر کے چھوڑ دیا گیا تھا اور کچھ عرصے بعد اس لوکیشن پر یہ کال سینٹر متحرک ہوگیا تاہم ہر کچھ عرصے بعد اس کال سینٹر کی کمپنی ملکیت تبدیل ہوتی رہی ہے تاہم مالکان تبدیل نہیں ہوئے جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ کالنگ ایجنٹس تبدیل ہوتے رہے ہیں ۔
اس کال سینٹر کے مالکان کے ساتھ سابق گورنر کے بیٹے کے ساتھ ان کی دوستی اور ماہانہ 15 پرسنٹ پر شراکت دار بن گیا لیکن یہ شراکت داری بغیر دستاویزات کے ساتھ ہے اور کئی برس سے اس کال سینٹر سے اسے ماہانہ امریکی ڈالر میں حصہ مل رہا تھا اور وہ کبھی دس ہزار ڈالر ہوتا کبھی اسے زیادہ ور کبھی کم ملتے تھے اور یہ حصہ بغیر بینکنگ چینل کے منتقل ہوتا ہے ۔
این سی سی آئی اے کی حالیہ کارروائی میں بھی اس کال سینٹر کے اصل مالک گرفتاری سے کیسے محفوظ رہا اور کال سینٹر پر کارروائی سے قبل مالک کیسے سینٹر سے چلا گیا کیا اس معاملے پر کوئی تحقیقات ہوں گی؟۔