Screenshot_2026_0219_200806

سندھ ہائی کورٹ نے صوبے بھر کی جامعات میں انتظامی عہدوں پر استاتذہ کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیا ہے ،جامعہ کراچی میں ڈائریکٹر فنانس کو بھی پابند کیا گیا یے کہ ایسے انتظامی عہدوں پر تعینات استاتذہ کے لئے فنڈ جاری کرنے پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

سندھ ہائی کورٹ کے حیدرآباد سرکٹ نے جامعہ سندھ میں اساتذہ اور پی ایچ ڈی ہولڈرز کو انتظامی عہدوں پر تعینات کرنے کے خلاف دائر آئینی درخواست نمٹا تے ہوئے اہم احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ انتظامی و قانونی عہدے خالصتاً ایڈمنسٹریٹو کیڈر کے ذریعے شفاف اور مسابقتی عمل سے پُر کیے جائیں۔

یہ حکم آئینی درخواست نمبر 1757 آف 2024 میں جاری کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ University of Sindh میں فیکلٹی ممبران/پی ایچ ڈی ہولڈرز کو انتظامی مناصب سونپے گئے جو کہ جامعہ سندھ ایکٹ، یونیورسٹی کوڈ 2013، سروس قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے منافی ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ انتظامی عہدے ایڈمنسٹریٹو کیڈر سے شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے پُر کیے جائیں۔عارضی، اسٹاپ گیپ، او پی ایس یا آؤٹ آف کیڈر تقرریاں غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت لازمی اور پابند ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے مقدمات Province of Sindh v. Ghulam Fareed (2014 SCMR 1189) اور Khan Muhammad v. Chief Secretary Balochistan (2018 SCMR 1411) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی پوسٹوں پر اساتذہ کی تعیناتی عدالتی نظائر کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ اور جامعہ سندھ کی متعلقہ اتھارٹیز کو ہدایت کی کہ رجسٹرار، کنٹرولر آف ایگزامینیشن، ڈین آف فیکلٹی سمیت تمام خالی قانونی و انتظامی عہدوں پر 60 دن کے اندر اندر باقاعدہ بھرتی کا عمل مکمل کیا جائے۔

کوئی بھی فیکلٹی ممبر/پی ایچ ڈی ہولڈر غیر تدریسی انتظامی عہدے پر اضافی چارج، لک آفٹر، او پی ایس یا کسی بھی عبوری انتظام کے تحت تعینات نہ رہے۔
موجودہ تمام عبوری انتظامات فوری طور پر ختم کیے جائیں۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ عملدرآمد رپورٹ مقررہ مدت میں عدالت کے ایڈیشنل رجسٹرار کے روبرو جمع کرائی جائے۔

فیصلے کے بعد جاری مراسلے میں ڈائریکٹر فنانس کراچی یونیورسٹی کو بھی حکم سے آگاہ کیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ اگر کسی ایسے فرد کو عوامی فنڈز جاری کیے گئے جو غیر قانونی طور پر اضافی یا عارضی چارج پر تعینات ہو تو رقم متعلقہ افسر کی تنخواہ سے وصول کی جائے گی، بصورت دیگر منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے اور توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

عدالتی حکم نامہ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس اعجاز علی ساہو پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جاری کیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف جامعہ سندھ بلکہ صوبے کی دیگر جامعات کے لیے بھی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں طویل عرصے سے عارضی اور اضافی چارج کے تحت انتظامی امور چلائے جا رہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے