ایف آئی اے میں انسانی اسمگلنگ کے نئے نیٹ ورک کا انکشاف ،عمرہ ویزہ کے روٹ کا استعمال کرتے ہوئے یورپ جانے کا خواب دکھانے والے ایجنٹوں اور امیگریشن اہلکاروں کا منظم گروہ پنجاب کے مختلف ایئرپورٹس پر سرگرم یے،ڈی جی ایف آئی اے نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اور ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کو تحقیقات کا ٹاسک دے دیا ۔


ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگا کر مقدمہ درج کرلیا ہے، جس میں امیگریشن کاؤنٹر کے اہلکاروں اور ایک ایجنٹ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق اطلاع موصول ہوئی کہ چار مسافر عمرہ ویزے پر سعودی عرب جا رہے ہیں لیکن دراصل سعودی عرب کو ٹرانزٹ پوائنٹ بنا کر سمندری راستے کے ذریعے یورپ اسمگل ہونے کا منصوبہ تھا۔ اطلاع ملنے پر مسافروں کو امیگریشن کلیئرنس کے بعد آف لوڈ کرکے تفتیش کیلئے حراست میں لیا گیا۔
تحقیقات میں جن افراد کو حراست میں لیا گیا ان میں کامران خان (پشاور)،زیاد خان ولد عنایت خان (پشاور)،محمد شعیب ولد فیض اللہ (باجوڑ)،یاسین خان ولد بادشاہ خان (باجوڑ)شامل ہیں۔
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ امیگریشن کاؤنٹر پر تعینات انضمام الحق (FC) نے بغیر مزید جانچ کے مسافروں کو کلیئر کیا۔ مزید یہ کہ بورڈنگ پاسز پر انٹری کی تاریخیں جان بوجھ کر درج کی گئیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ مسافر پہلے بھی سعودی عرب جا چکے ہیں۔
مسافروں نے بیان دیا کہ ایک ایجنٹ یونس خان اور اس کے ساتھیوں نے انہیں سعودی عرب، مصر اور لیبیا کے راستے یورپ پہنچانے کا وعدہ کیا تھا اور انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ امیگریشن کاؤنٹر نمبر 13 پر موجود اہلکار انضمام الحق سے کلیئرنس کروائیں تاکہ پروفائلنگ سے بچ سکیں۔
ایف آئی اے کے مطابق فی مسافر تقریباً 30 ہزار روپے رشوت لے کر کلیئرنس دی گئی،ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل نے مبینہ طور پر 8 لاکھ روپے فی مسافر ڈیل طے کروائی،اے ایس آئی محمد عالم نے بھی مبینہ طور پر اہلکاروں سے رابطہ رکھا،بعض رقوم کی ادائیگی کی تصدیق جبکہ مزید رقم زیر التوا بتائی گئی،مزید انکشاف ہوا کہ اس سے پہلے بھی کئی مسافروں کو اسی طریقہ کار کے تحت کلیئر کیا جا چکا ہے۔
ایف آئی اے نے ملزمان انضمام الحق (ایف سی اہلکار) اور اے ایس آئی محمد عالم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔اور اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2)امیگریشن آرڈیننس کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں دیگر ملوث افراد کے کردار کی بھی تفتیش جاری ہے۔
اس کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے چار پاسپورٹ،عمرہ ویزے اور ٹکٹ،بورڈنگ پاسز،چار موبائل فونز بر آمد ہوئے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور انسانی اسمگلنگ کے بڑے گروہ تک پہنچنے کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔