
آن لائن فراڈ مافیا بے نقاب،اوکاڑہ اور کراچی کے شہری کروڑوں سے محروم، نیشنل سائبر کرائم ایجنسی خاموش کیوں؟
ملک بھر میں آن لائن فراڈ کی وارداتوں نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ واٹس ایپ گروپس اور آن لائن ایپس کی آڑ میں منظم نیٹ ورک نے اوکاڑہ اور کراچی کے سینکڑوں شہریوں سے کروڑوں روپے ہتھیا لئے۔
جعل سازوں نے یورپ، امریکہ اور کینیڈا کی سمیں پاکستان میں استعمال کر کے متاثرین کو جھانسہ دیا اور چار ہزار سے لے کر ستر لاکھ روپے تک کی سرمایہ کاری کروائی۔ ماضی کی مشہور اسکیموں جیسے ایم ایل ایم، گولڈن کی اور ڈبل شاہ کی طرز پر اس فراڈ میں متاثرین کے اکاؤنٹس میں کمیشن کے نام پر رقم دکھائی گئی مگر انہیں کیش نہیں کرایا جا سکا۔
ذرائع کے مطابق جعل سازوں نے رقوم کی منتقلی کے لئے نجی بینک اکاؤنٹس، جاز کیش اور ایزی پیسہ ایپس استعمال کیں۔ حیرت انگیز طور پر ان کمپنیوں کو ایف بی آر میں رجسٹرڈ بھی کرایا گیا تاکہ اعتماد حاصل کیا جا سکے۔
اوکاڑہ پولیس نے متاثرین کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے ایک خاتون ثمرین کو گرفتار کیا ہے، جبکہ مبینہ سرغنہ "ایمپلی وائٹ” نامی خاتون ہے جس کی شناخت جعلی بتائی جا رہی ہے۔ عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق جعل ساز سب پاکستان میں ہی سرگرم ہیں۔
مزید انکشافات کے مطابق اس نیٹ ورک کے کراچی میں بھی حوالہ ایجنٹوں سے روابط ہیں اور بڑی رقوم کے ذریعے خطیر سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا گیا ہے۔
تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے اب تک اس فراڈ کے خلاف کوئی ازخود کارروائی نہیں کی ہے۔ ماہرین کے مطابق ادارے کی خاموشی اور عدم فعالیت خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو آن لائن فراڈ کی یہ لہر مزید تباہ کن صورت اختیار کر سکتی ہے۔