Screenshot_2025_0827_114828

پرائیویٹ اسکول مافیا کی بدمعاشی عروج پر پہنچ گئی۔ فیسوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف آواز اٹھانے پر کورنگی کے این جے ڈبلیو گرامر اسکول کی انتظامیہ نے ڈان نیوز کے صحافی فرحان محمد خان کے معصوم بچوں کو انتقام کا نشانہ بنا ڈالا۔

گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اسکول انتظامیہ نے اچانک فیسوں میں 20 سے 25 فیصد تک کا ظالمانہ اضافہ کردیا۔ سینکڑوں والدین نے اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی، تحریری درخواست دی مگر اسکول نے رعونت کے ساتھ مسترد کردی۔ جب 300 سے زائد والدین نے اجتماعی طور پر دستخط کرکے ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ کو درخواست دی تو اسکول مافیا نے کھلم کھلا انتقامی کارروائیاں شروع کردیں۔


صحافی فرحان محمد خان کے بچے محمد ارحم (کلاس 10) اور آمنہ فرحان (کلاس 5) کو سب کے سامنے رسوا کیا گیا۔ کلاس میں اساتذہ کو کہلوایا گیا کہ یہ وہ بچے ہیں جن کے والد نے فیس کم کرنے کی بات کی۔ انہیں سزا کے طور پر کلاس سے نکالا گیا اور بالآخر 27 اگست 2025 کو اسکول کے گیٹ پر دو گھنٹے کھڑا رکھنے کے بعد کہہ دیا گیا کہ اب یہاں پڑھنے کی اجازت نہیں۔


300 سے زائد والدین نے فیس روک کر اسکول مافیا کے خلاف احتجاج کیا تو انتظامیہ نے دباؤ ڈالنے کے لئے صحافی کے بچوں کو نشانہ بنایا۔ حالانکہ فرحان محمد خان نے انتظامیہ کو واضح طور پر کہا تھا کہ فیصلہ جو بھی آئے، ہم فیس ادا کریں گے۔ لیکن ظالم انتظامیہ نے اپنی طاقت دکھانے کے لئے معصوم بچوں پر غصہ نکالا۔

جب فرحان محمد خان بات کرنے اسکول پہنچے تو مرکزی دروازے پر کھڑے غنڈہ نما افراد نے انہیں اندر جانے سے روکا اور تشدد کرنے کی کوشش کی۔ اطلاع پر زمان ٹاؤن پولیس موقع پر پہنچی، لیکن اسکول انتظامیہ نے ڈھٹائی سے مؤقف اختیار کیا کہ یہ والدین کو احتجاج پر اکساتے ہیں، اس لیے ان کے بچوں کو اسکول میں نہیں رکھا جا سکتا۔