بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کے خلاف تعطل کا شکار تحقیقات ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ بحال کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سیل کراچی نے جمعرات کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر بڑا اور منظم چھاپہ مار کر اہم اور حساس ریکارڈ تحویل میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران بحریہ ٹاؤن کراچی کا مکمل لے آؤٹ پلان، زمینوں کی الاٹمنٹ، ٹرانسفرز اور دیگر کلیدی دستاویزات ایف آئی اے کی تحویل میں لے لی گئیں، جنہیں آئندہ قانونی کارروائی کے لیے فیصلہ کن شواہد قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ہائی پروفائل کارروائی کے لیے ایف آئی اے کراچی کے تمام سرکلز سے افسران اور اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا، جن میں خواتین افسران و اہلکار بھی شامل تھیں۔ کارروائی کے دوران دفتر میں موجود کسی بھی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم تاحال کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، جس دوران ایف آئی اے کی ٹیم نے نوٹسز کے ذریعے طلب کیے گئے تمام ریکارڈ کو باقاعدہ قبضے میں لیا۔ یہ ریکارڈ گزشتہ برس شروع ہونے والی انکوائریوں کا حصہ تھا، جس میں بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر عدم تعاون سامنے آیا تھا۔

یاد رہے کہ ملک ریاض حسین کے خلاف ایف آئی اے میں گزشتہ سال متعدد انکوائریوں کا آغاز کیا گیا تھا، جن میں منی لانڈرنگ، زمینوں پر غیرقانونی قبضوں اور سرکاری و نجی اداروں سے روابط کے الزامات شامل ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ضبط شدہ ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ کے بعد مزید چھاپوں، طلبیوں اور ممکنہ قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد سندھ کے اہم سسٹم سے منسلک کئی بااثر نام ایک بار پھر تحقیقاتی دائرے میں آ سکتے ہیں، جبکہ کیس میں آنے والے دنوں میں مزید چونکا دینے والی پیش رفت متوقع ہے۔
بھائی۔ کوئی مزید انسائڈ تو ڈالیں