Screenshot_2026_0116_111336

وفاقی حکومت نے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں خاموش مگر انتہائی سخت ترامیم نافذ کرتے ہوئے پرسنل بیگیج کے تحت گاڑی درآمد کرنے کی سہولت مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔ اس اہم اور دور رس فیصلے کے تحت حکومت نے ایس آر او 61 جاری کر دیا ہے، جو امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ 1950 کے تحت فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
ذرائع کے مطابق درآمدی پالیسی کے پیراگراف 16، اپنڈکس بی اور اپنڈکس ای میں ایسی بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے بعد اب گاڑیوں کی درآمد صرف دو محدود اسکیموں، تحفہ (Gift Scheme) اور ٹرانسفر آف ریزیڈنٹ (Transfer of Residence) کے تحت ہی ممکن ہوگی، جبکہ ذاتی سامان کے ذریعے گاڑی منگوانے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

حکومتی نوٹیفکیشن میں گاڑی درآمد کرنے کے لیے گزشتہ تین سال کی شرط کو مزید سخت کرتے ہوئے 850 دن واضح کر دیے گئے ہیں، جن کا شمار آخری امپورٹ گڈز ڈیکلریشن فائل ہونے کی تاریخ سے ہوگا۔ اسی طرح ایک ہی خاندان میں گاڑی تحفے میں دینے کی حد کو دو سے بڑھا کر تین کر دیا گیا ہے، تاہم اس سہولت کے ساتھ سخت نگرانی اور کڑی شرائط بھی عائد کر دی گئی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ تحفہ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنٹ اسکیم کے تحت درآمد کی جانے والی ہر گاڑی کم از کم ایک سال تک ناقابلِ منتقلی ہوگی، یعنی نہ فروخت ہو سکے گی اور نہ ہی کسی اور کے نام منتقل کی جا سکے گی۔ حکومت نے یہ شرط مبینہ کمرشل استعمال اور اسمگلنگ کے خدشات کے پیش نظر عائد کی ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ ایسی تمام گاڑیوں پر وہی حفاظتی، ماحولیاتی اور ریگولیٹری قوانین لاگو ہوں گے جو کمرشل بنیادوں پر درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر نافذ ہیں، جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈنٹ اسکیم کے تحت گاڑی صرف اسی ملک سے درآمد کی جا سکے گی جہاں متعلقہ اوورسیز پاکستانی مستقل طور پر مقیم ہو۔

حکام کا مؤقف ہے کہ ان سخت ترامیم کا مقصد گاڑیوں کی درآمد میں پائے جانے والے خلا کو ختم کرنا، قوانین کے غلط استعمال کی روک تھام، قیمتی زرِ مبادلہ کے ضیاع پر قابو پانا اور ماحولیاتی و حفاظتی معیارات کو یقینی بنانا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے اوورسیز پاکستانیوں اور عام صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے