متروکہ وقف املاک بورڈ نے ملک بھر میں موجود جائیدادوں کو مخفی رکھنے کے لئے پہلے اپنے ریکارڈ کو حساس اور ٹاپ سیکریٹ قرار دیا اور جب معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت تفصیلات طلب کی گئیں تو ریکارڈ فراہم کرنے کے عوض 7 لاکھ 85 ہزار 302 روپے طلب کر لئے۔
مزید حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے معلومات طلب کرنے والے شہری کو ریکارڈ فراہم کرنے کے بجائے عملاً رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی دھجیاں اڑا دیں اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے فیصلے کی توثیق کر کے اپنے کردار اور اہلیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔
متروکہ وقف املاک بورڈ نے گزشتہ 5 برس میں وصول کئے گئے کرایوں، خزانے میں جمع کرائی گئی رقم، جاری کئے گئے ٹینڈرز اور نیلامیوں کی تفصیلات کو بھی حساس ترین معلومات قرار دے کر معلومات کی فراہمی میں رکاوٹ کھڑی کر دی۔ حیران کن طور پر پاکستان انفارمیشن کمیشن نے بھی اس مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے عملاً اس فیصلے کی توثیق کر دی۔
متروکہ وقف املاک بورڈ نے معلومات تک رسائی دینے کے لئے آر ٹی آئی ایکٹیویسٹ کو معلومات دینے کے لئے 7 لاکھ 85 ہزار 302 روپے مانگ لئے جبکہ پاکستان انفارمیشن کمیشن سیکشن 4 کے تحت معلومات مہیا کرانے کے بجائے حتمی فیصلہ بھی جاری کر چکا ہے۔
تحقیقات ڈاٹ کام کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق معلومات تک رسائی کے ایکٹ پر عمل درآمد اور صحافت میں مذکورہ ایکٹ کے استعمال کیلئے سرگرداں صحافی اور آر ٹی آئی ایکٹیویسٹ عظمت خان نے متروکہ وقف املاک بورڈ کو 11 مختلف درخواستیں لکھیں۔
ان درخواستوں میں متروکہ وقف املاک کی اراضی کی 30 سالہ لیز سمیت سندھ، کراچی، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں محکمہ کے پاس موجود زمینوں کی تفصیلات مانگی گئیں۔ درخواستوں میں پوچھا گیا کہ محکمہ کے پاس کل کتنی اراضی ہیں، کتنی لیز پر ہیں، کتنی خالی ہیں اور کتنی کرائے پر ہیں۔اسی طرح ایک درخواست میں 99 سالہ لیز کی تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ ایک درخواست میں یہ بھی پوچھا گیا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمینوں کے کتنے معاملات عدالتوں میں زیر التوا ہیں جبکہ کرائے پر دی گئی اراضی اور مختلف انکوائریز رپورٹس کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔
تاہم شہری کو ان سوالات کا براہ راست کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ جس کے بعد شہری نے چیئرمین متروکہ وقف املاک کو ریویو فائل کیا مگر اس کے باوجود بھی شہری عظمت خان کو معلومات مہیا نہیں کی گئیں۔
بعد ازاں شہری نے معلومات تک رسائی کے قانون کی سیکشن 16 کے تحت پاکستان انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کر دی۔
اس اپیل پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن نے 29 اکتوبر 2025 کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کو 10 روز میں شہری کو معلومات فراہم کرنے کا نوٹس جاری کیا۔
اس نوٹس کے جواب میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری فرید اقبال کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو جاری ہونے والے گزٹ نوٹی فکیشن کی کاپی شہری کو بھیج کر لکھا گیا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی کا ریکارڈ ٹاپ سیکریٹ ہے اور اس وجہ سے ریکارڈ مہیا نہیں کیا جا سکتا۔
خط میں 5 اگست 1986 کے لیٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سیکشن 20 اور سیکشن 30 کے چیپٹر 4 کے تحت متروکہ وقف املاک بورڈ کا ریکارڈ حکومت کے پاس کلاسیفائڈ حساس دستاویزات میں شامل ہے۔تاہم پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اس گزٹ کو معلومات کی فراہمی میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور معلومات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔
اس کے بعد متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے 9 فروری 2026 کو شہری کو ایک اور خط بھیجا گیا جس میں کہا گیا کہ جو ڈیٹا مانگا جا رہا ہے وہ دستاویزات کے اعتبار سے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔
خط میں لکھا گیا کہ اگر 20 صفحات تک کا ڈیٹا ہوتا تو اسے مفت جاری کر دیا جاتا، تاہم صفحات کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے درخواست گزار کو آگاہ کیا گیا کہ یہ ڈیٹا 7 روپے فی صفحہ کے حساب سے جاری کیا جائے گا۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی سیکرٹری پراپرٹی حسن امتیاز نے ہاتھ سے لکھ کر حبیب بینک لمیٹیڈ کا اکاؤنٹ نمبر دیا اور مختلف اپیلوں کے تحت معلومات فراہم کرنے کیلئے فیس کی تفصیل بھی درج کر دی۔
دستاویزات کے مطابق اپیل نمبر 5034/2025 کے تحت سندھ کی پراپرٹیز کیلئے 14420 صفحات پر 100940 روپے،اپیل نمبر 5043/2025 کے تحت بلوچستان کیلئے 756 صفحات پر 5292 روپے،اپیل نمبر 5044/2025 کے تحت خیبر پختونخوا کیلئے 6212 صفحات پر 43484 روپے،اپیل نمبر 5057/2025 کے تحت پنجاب کیلئے 63786 صفحات پر 446502 روپے،اپیل نمبر 5058/2025 کے تحت ہری پور کیلئے 356 صفحات پر 2555 روپے،اپیل نمبر 5060/2025 کے تحت کراچی کیلئے 8010 صفحات پر 56070 روپے،اپیل نمبر 5059/2025 کے تحت لاہور کیلئے 18637 صفحات پر 130459 روپے طلب کئے گئے ۔یوں مجموعی طور پر شہری سے 7 لاکھ 85 ہزار 302 روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
متروکہ وقف املاک بورڈ نے مزید یہ بھی لکھا کہ کرائے اور دیگر جرمانوں کی صورت میں ہونے والی آمدن، کتنی اراضی پر منصوبے بن رہے ہیں، ٹینڈر کی معلومات اور نیلامی کی معلومات خفیہ ہیں اور انہیں شہری کو فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان 130 ممالک میں شامل ہے جہاں معلومات تک رسائی کا قانون موجود ہے جس کے تحت کوئی بھی پاکستانی شہری سرکاری اداروں سے متعلق معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
اسی قانون کی سیکشن 4 یعنی معلومات کی رضاکارانہ اشاعت کے تحت سرکاری اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اہم فیصلے اور ریکارڈ خود شائع کریں۔
تاہم اس کیس میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے جہاں پہلے معلومات کو خفیہ قرار دے کر روکا گیا اور اب معلومات فراہم کرنے کے لئے لاکھوں روپے کی رقم طلب کی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا عام شہری اتنی محنت اور قانونی جدوجہد کے بعد سرکاری معلومات لاکھوں روپے دے کر حاصل کرے گا؟ادھر پاکستان انفارمیشن کمیشن میں سماعت کے دوران متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر لیگل محمد افتخار فاروق پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ اگر شہری کو معلومات چاہئے ہیں تو اس کے لئے فوٹو کاپیوں کے لئے 7 لاکھ 85 ہزار 302 روپے جمع کرانے ہوں گے۔