کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کا چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) کے ایک اہلکار کے مبینہ کردار نے نہ صرف ادارہ جاتی شفافیت بلکہ قومی سیکیورٹی کے نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کی تحقیقات کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو مسافروں کو مبینہ طور پر ایک لاکھ 90 ہزار روپے رشوت کے عوض غیر معمولی پروٹوکول کے ذریعے امیگریشن سے کلیئر کروایا گیا، تاہم زمبابوے پہنچنے پر انہیں نا قابلِ داخلہ قرار دے کر واپس پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا۔


دستاویزات کے مطابق 8 اپریل 2026 کو فیصل آباد کے شوال ندیم اور لاہور کے توقیر حسین ایتھوپین ایئرلائن کی پرواز ET-695 کے ذریعے کراچی سے روانہ ہوئے۔ دونوں مسافروں کو ایک مشتبہ شخص نے سادہ لباس میں ایئرپورٹ کے داخلی دروازے سے وصول کیا اور پروٹوکول گیٹ کے ذریعے اندر لے جا کر عام سیکیورٹی مراحل کو بائی پاس کروایا۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص نے امیگریشن عملے کو بتایا کہ مسافر “ڈی جی اے ایس ایف پروٹوکول” کے تحت ہیں اور فوری کلیئرنس کی ہدایت دی۔ بعد ازاں اس کی شناخت سب انسپکٹر علی عباس کے طور پر ہوئی، جو مبینہ طور پر ڈائریکٹر جنرل اے ایس ایف کے پروٹوکول آفیسر ہیں۔
مسافر ادیس ابابا کے راستے ہرارے پہنچے، جہاں زمبابوے امیگریشن حکام نے انہیں مشکوک قرار دے کر داخلے سے روک دیا اور 10 اپریل کو واپس کراچی ڈی پورٹ کر دیا۔


واپسی پر تفتیش کے دوران دونوں مسافروں نے انکشاف کیا کہ ان کا اصل ہدف زمبابوے کے ذریعے غیر قانونی طور پر جنوبی افریقہ داخل ہونا تھا، جس کے لیے انہوں نے بیرون ملک مقیم ایجنٹ بلال معاذ سے لاکھوں روپے کے عوض معاہدہ کیا تھا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ امیگریشن کلیئرنس کے لیے 1 لاکھ 90 ہزار روپے ایک نجی بینک اکاؤنٹ (ٹائٹل: سید ہارون) میں جمع کروائے گئے۔
مزید برآں، موبائل فون ریکارڈز سے معلوم ہوا کہ ایجنٹ نے مسافروں کو واٹس ایپ چیٹس ڈیلیٹ کرنے اور حکام کو گمراہ کرنے کی ہدایات بھی دی تھیں۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ ایک منظم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک ہے، جس میں بیرون ملک ایجنٹس، مقامی سہولت کار اور مبینہ طور پر ادارہ جاتی عناصر بھی شامل ہیں۔
اہم کرداروں میں بلال معاذ (سوازی لینڈ/ایسواتینی)، سید ہارون (بینک اکاؤنٹ ہولڈر) اور دیگر نامعلوم افراد شامل ہیں، جو شہریوں کو غیر قانونی راستوں سے جنوبی افریقہ منتقل کرنے میں ملوث ہیں۔
ایف آئی اے نے مقدمہ نمبر 132/2026 درج کرتے ہوئے اسے پریوینشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2018 (ترمیم 2025) کے تحت سنگین جرم قرار دیا ہے۔
دونوں مسافروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزمان اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اے ایس ایف کے سب انسپکٹر علی عباس کے کردار، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور ممکنہ شراکت داری کا تعین جاری ہے، اور ان کے خلاف کارروائی وزارت دفاع کے قواعد کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔
یہ کیس نہ صرف انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ ایئرپورٹ سیکیورٹی، امیگریشن کلیئرنس اور پروٹوکول سسٹم کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی بڑے سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔
دوسری جانب، ایف آئی اے امیگریشن حکام کی جانب سے وضاحت نہ آنے سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جبکہ تحقیقاتی افسران کا کہنا ہے کہ مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
کراچی ائیرپورٹ کا یہ اسکینڈل ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک نہ صرف بین الاقوامی سطح پر سرگرم ہیں بلکہ مبینہ طور پر حساس اداروں کے اندر سے بھی سہولت حاصل کر رہے ہیں۔
حکام کی جانب سے سخت کارروائی کی یقین دہانی کے باوجود، یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخر اس نظام میں موجود خامیوں کو کب اور کیسے دور کیا جائے گا؟