نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے غیر قانونی کال سینٹرز کے مالکان اور ان سے جڑے کرداروں کے خلاف منی لانڈرنگ کی انکوائری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

این سی سی آئی اے نے کراچی کے پوش علاقوں میں قائم کال سینٹرز کی درجن سے زائد فرنچائز کے مالک مرتضیٰ حسین عرف ہانی ولد سید شبہات حسین عابدی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کردی ہے ۔
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کو وزارت خزانہ کے زریعے 26 اگست 2025 کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مختلف دفعات میں ملزم کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ کی انکوائری اور مقدمہ درج کرنے کا اختیار دیا گیا ہے تاہم ایک برس کے قریب عرصے میں آن لائن فراڈ میں ملوث کسی ملزم کے خلاف انکوائری شروع نہیں ہوسکی تھی۔
این سی سی آئی اے کراچی نے دو ماہ قبل ہانی کی ون ٹین کمیونیکیشن سے منسلک ایک فرنچائز پر چھاپہ مارا تھا اور اس فرنچائز سے عمر عرف رابن سمیت 30 کے لگ بھگ ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا ان میں زیادہ تر وہ ایجنٹس شامل تھے جنہوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے زریعے آئی ٹی سیکٹر میں قدم رکھنے کے لئے سوفٹ ہاؤس کے نام سے اس پلیٹ فارم سے رابطہ کیا اس مقدمے میں مرتضی عرف ہانی کو نامزد کیا گیا جس نے گرفتاری سے بچنے کےلئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ سے ضمانت قبل از وقت گرفتاری حاصل کر لی اور این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوگیا اور اپنا بیان بھی ریکارڈ کروا دیا ۔
این سی سی آئی اے کراچی کی غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف اس کارروائی کو بڑی کارروائیوں میں سے ایک سمجھا جارہا ہے کیونکہ مرتضی عرف ہانی گزشتہ دس برس سے اس غیر قانونی کال سینٹرز کے کاروبار میں ملوث ہے اور اس کے اس کاروبار میں سیاسی جماعتوں کے رہنما،ایف آئی اے ،پولیس افسران ،بیورو کریسی کے اہم کردار بھی اس سے منسلک ہیں جبکہ ماضی میں ہانی اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں سے بچنے کے لئے حساس اداروں کا نام بھی استعمال کرتا رہا ہے اور اسی وجہ سے ان دس برس میں اس کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوسکی اور اس نے غیر قانونی کال سینٹرز کا جال فرنچائز کی شکل میں ڈیفنس ،کلفٹن ،گلشن اقبال کے بنگلوں میں شفٹ کرلیا جہاں سینکڑوں ایجنٹس اس مکروہ دھندے سے جڑے ہیں ۔
ون ٹین کمیونیکیشن کے زریعے شروع ہونے والے اس کاروبار کی فرنچائز تقسیم کرنے کا ایک مخصوص فارمولہ ہے جس کے لئے دستاویزات میں مرتضی پانی کا نام کہیں بھی نمایاں نہیں ہے جبکہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں،ایف آئی اے ،پولیس اور بیورو کریسی کے افسران کے نام بھی مخفی رکھے جاتے ہیں جبکہ ہر فرنچائز کی زمہ داری ہانی کے خاص ایجنٹ کے سپرد ہوتی ہے اور معاہدے بھی اسی کے نام سے بنتا ہے اور عمومی طور پر ایجنٹ کے بھی اس معاہدے پر دستخط نہیں ہوتے ہیں ۔
یاد رہے کہ ان غیر قانونی کال سینٹرز کی فرنچائز سے ماہانہ 50 لاکھ سے ایک کروڑ تک کی ادائیگی ان شراکت داروں کو ہوتی ہے جس میں ورچوئل کرنسی کے ساتھ مختلف ایپلیکیشن کا استعمال ہوتا ہے جو بینکنگ نظام کے متوازی نظام کے زریعے چلایا جارہا ہے جو این سی سی آئی اے میں غیر قانونی کال سینٹرز کے مالکان یا ان سے جڑے کرداروں کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں ایک۔مشکل ہدف ہے ۔
این سی سی آئی اے کی اس انکوائری میں مرتضی عرف ہانی کے ساتھ ساتھ اور کون سے کردار اس میں آئیں گے یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا ۔تاہم ابتدائی طور پر مرتضی عرف ہانی اور ان کے خاندان میں شامل افراد اس تحقیقات میں شامل تفتیش ہوسکتے ہیں ۔