ملک کی سب سے بڑی جامعہ میں نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے جانے والے تین ناموں کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
سندھ کی جامعات پر کنٹرول کرنے کی سیاسی سرد جنگ میں اعلی شخصیات کے قریب رہنے والے ایک سابق وائس چانسلر نے جامعہ کراچی میں من پسند وائس چانسلر کی تعیناتی سے اس جدوجہد کو تیز کر رکھا ہے ۔
اس عمل کے لئے ممکنہ طور پر جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے دوبارہ اشتہار جاری کئے جانے کا امکان ہے اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی طرز پر جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر طفیل جوکھیو کے اضافی چارج کو مزید طول دئیے جانے کا بھی فیصلہ ہوسکتا ہے ۔
جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کا معمہ ہے جو سلجھنے کے بجائے مزید الجھایا جا رہا ہے ۔زرائع کے مطابق جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے سیکرٹری بورڈ اینڈ ایجوکیشن کی جانب سے جاری اشتہار کے بعد 70 کے لگ بھگ سابق اور موجودہ پروفیسرز کے ساتھ ایڈمنسٹریٹیو افسران نے اس دوڑ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی اس فہرست کی اسکروٹنی کے بعد 46 کے قریب امیدواران کو انٹرویو کے لئے طلب کیا گیا تھا اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کا نام اس فہرست میں موجود تھا لیکن وہ از خود انٹرویو کے لئے نہیں گئے تھے۔
زرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کے بعد سیکرٹری بورڈ اینڈ ایجوکیشن نے تین نام ڈاکٹر وسیم قاضی ،ڈاکٹر معظم علی خان اور ڈاکٹر شفیق الرحمن پر مشتمل ناموں کی حتمی فہرست تیار ہوئی اور ان ناموں کی سیکورٹی کلئیرنس کے لئے مختلف اداروں کو بھیجا گیا اور زرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہی ان تینوں ناموں کی سیکورٹی کلئیرنس بھی سندھ ایجوکیشن بورڈ کو ارسال کردی گئی تھی ۔
زرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کے اعلی عہدے پر تعینات شخصیت کے قریبی دوست طویل عرصے سے اعلی تعلیمی اداروں کے انتظامی کنٹرول حاصل کرنے میں لگے ہیں اور ممکنہ طور پر ان ہی کی کوششوں سے ان حتمی تین ناموں کی ہی فہرست کو مسترد کئے جانے کا فیصلہ ہوا ہے ۔
واضح رہے کہ سندھ میں اداروں کی کارکردگی پر پہلے ہی سوالیہ نشان ہیں اور ملک کی سب سے بڑی جامعہ میں گزشتہ کچھ برس سے اسی کیفیت نے مالی طور پر کمزور کرنے کے ساتھ تعلیمی اور انتظامی طور پر بھی کمزور کردیا ہے اور مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی میں اس نئی رکاوٹ کے بعد جامعہ کراچی کی تعلیمی سرگرمیوں اور انتظامی امور میں نئی بڑی رکاوٹیں آنے کا امکان ہے ۔
سندھ کے اعلی تعلیمی اداروں پر کنٹرول کرنے کی سیاست میں اس وقت جامعہ کراچی میں نئے وائس چانسلر کی تعیناتی میوزیکل چئیر بن گئی ہے اور اس سمری کی مبینہ مسترد ہونے والی کارروائی کے بعد جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر طفیل جوکھیو کے پاس جامعہ کراچی کے اضافی چارج کو مزید کچھ ماہ اضافی ملنے کا امکان روشن ہوگیا ہے اور این ای ڈی کے وائس چانسلر طفیل جوکھیو اپنے سئینر کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتے ہیں ۔