جامعہ کراچی میں میرٹ، شفافیت اور احتساب کے دعوے بلند ضرور ہوتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول صرف عام طلبہ اور غیرپسندیدہ ملازمین کے لیے ہیں؟
کیا شیخ الجامعہ کے قریبی، منظورِ نظر اساتذہ اور افسران قانون و پالیسی سے بالاتر ہیں؟
اور کیا جامعہ میں میرٹ کا دروازہ ’’تعلقات‘‘ کے دباؤ سے ٹوٹ چکا ہے؟
کیا جامعہ کراچی واقعی ’’جسٹس طارق محمود جہانگیری ماڈل‘‘ پر چلنے کے لیے تیار ہے، یا صرف ایسے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو طاقت کے مراکز کے قریب نہیں ہوتے؟ اگر جامعہ 35 سال پرانی اسناد کھول سکتی ہے تو کیا شیخ الجامعہ کے اپنے قریبی حلقے پر بھی یہی تلوار چل سکتی ہے؟ یا اصول ایک ہی ہیں، مگر اطلاق صرف دور کھڑے لوگوں پر ہے؟
مارچ 2023 میں ریٹائر ہونے والے ڈاکٹر قدیر محمد علی آج بھی جامعہ کراچی کے شعبہ ٹرانسپورٹ کے ایڈوائزر کی حیثیت سے سرگرم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اتنا اختیار کیوں؟
کیا یہ صرف وائس چانسلر سے قربت کا نتیجہ ہے؟
یا واقعی ان کی خدمات ناگزیر ہیں؟
یہیں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔




دستاویزات کے مطابق میٹرک 1978 میں نیو کراچی الیون ایف کے آمنہ پرائیوٹ اسکول سے جہاں انہوں نے میٹرک سائنس سے کیا اور انٹر 1981 میں گورنمنٹ نیشنل کالج سے سائنس بائیو میڈیکل سے کیا اور ان کے تعلیمی اسناد کے مطابق اعلی ثانوی بورڈ سے انہوں نے تھرڈ ڈویژن میں کلئیر کیا اور انہوں نے مجموعی طور پر 1000 نمبروں میں سے 439 نمبر حاصل کئے تھے ۔اسی طرح جامعہ کراچی کا انرولمنٹ 1979 کا؟
یعنی انٹر مکمل ہونے سے دو سال پہلے داخلہ؟
کیا جامعہ کراچی کی تاریخ میں ایسا کبھی ہوا ہے؟
ایک سال کے فرق کی ’’روایت‘‘ تو عام تھی، مگر دو سال کیوں؟ کیسے؟ کس نے منظوری دی؟
اگر 45 فیصد سے کم نمبروں پر داخلے کی اجازت ہی نہ تھی تو پھر ڈاکٹر قدیر کس بنیاد پر اہل قرار پائے؟
کیا ماضی میں بھی میرٹ ’نظرانداز‘ ہوتا رہا؟
مثال کے طور پر ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر نصرت ادریس تھرڈ ڈویژن میں داخلہ بھی ملا،ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ قبل پی ایچ ڈی بھی ہوگئی اور وہ بھی شیخ الجامعہ کے قریبی حلقے کی فرد ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سائنس اور آرٹس فیکلٹی میں تھرڈ ڈویژن والوں کے لیے خصوصی دروازے کھولے گئے تھے؟کیا اس وقت کوئی اسکروٹنی کمیٹی موجود ہی نہیں تھی؟یا وہ کمیٹی صرف عام طلبہ کے لیے تھی؟
ڈاکٹر قدیر محمد علی تھرڈ ڈویژن میں اہل کیسے ہوئے؟
پی ایچ ڈی کے لیے اہل کیسے ٹھہرے؟
اور سب سے بڑھ کر کس بنیاد پر؟
اگر معیار واقعی سخت ہے تو پھر استثنیٰ کیوں، اور کن کے لیے؟
جب موجودہ وائس چانسلر اسٹوڈنٹ ایڈوائزر تھے تو صورتحال کشیدہ تھی۔اج تعلقات مثالی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ قربت محض اتفاق ہے یا عہدوں کا راستہ؟کیا یہ ہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر قدیر ریٹائرمنٹ کے باوجود جامعہ کے اہم ترین انتظامی شعبے میں بیٹھے ہیں؟
اصل سوال ہے کہ شفافیت سب کے لیے یا چند کے لیے ہے ؟
جب جسٹس طارق محمود جہانگیری کے کیس میں جامعہ کراچی 35 سال پرانی اسناد تک کھول سکتی ہے توکیا جامعہ اپنے قریبی، بااثر، اور برسوں سے طاقت کے دائرے میں موجود افراد کے خلاف بھی اسی نوعیت کی انکوائری شروع کرے گی؟
اگر نہیں تو کیا جامعہ کراچی کے لیے قانون اور اصول صرف اُن کے لیے ہیں جو طاقتور حلقے میں شامل نہیں ہیں؟.