Screenshot_2025_1024_124113

ایف آئی اے نے 2025 میں حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے خلاف ملک گیر کامیابیوں کا دعویٰ تو کر دیا، مگر حقیقت ان تمام دعوؤں کی بنیاد ہلا دیتی ہے۔ کرنسی اسمگلنگ میں پورے سال ایک بھی ملزم کو سزا نہ ہو سکی،یعنی تفتیشی افسران کی کارکردگی صفر فیصد ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ آپریشن صرف چھاپوں اور پریس ریلیزز تک محدود تھا؟
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے دو لاکھ امریکی ڈالر ضبط تو کیے مگر یہ انتہائی اہم سرکل پانچ ماہ سے ڈپٹی ڈائریکٹر سے محروم بیٹھا ہے۔
کیا یہ نااہلی ہے یا کسی کی خاموش خواہش کہ یہ سرکل بند ہی کر دیا جائے؟
ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی ہدایت پر ملک بھر میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن تو بھرپور نظر آیا، مگر عدالتی نتائج اور محکمانہ تفتیش اس کامیابی کی بنیادوں کو ہلکا ثابت کرتی ہیں۔
کریک ڈاؤن کی اعداد و شمار کی بارش اور نتائج کی قحط سالی
سال 2025 کے دوران ایف آئی اے نے کہ
523 چھاپہ مار کارروائیاں
546 مقدمات درج
667 گرفتاریاں
174 انکوئریاں مکمل
یہ تمام کارروائیاں ایک مضبوط آپریشن کا تاثر ضرور دیتی ہیں، لیکن عدالتوں میں ایک بھی مجرم کے خلاف سزا نہ آسکنا پورے نظام کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

چھاپوں میں مجموعی طور پر 1 ارب 99 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کرنسی برآمد ہوئی جن میں شامل ہیں کہ
777,868 امریکی ڈالر
32 کروڑ روپے کی دیگر غیر ملکی کرنسی
1 ارب 45 کروڑ روپے پاکستانی کرنسی
اتنی بڑی ریکوری کے باوجود ایک بھی سزا نہ ہونا،یہ کہانی خود اپنے اندر ایک بڑا سکینڈل بنتی جا رہی ہے۔
کون سا زون کہاں کھڑا؟
پشاور: 199 گرفتاریاں
کوہاٹ: 63
لاہور: 58
فیصل آباد: 15
ملتان: 70
اسلام آباد: 22
کراچی: 101
حیدرآباد: 14
بلوچستان: 120
ملزمان زیادہ، مقدمات زیادہ، چھاپے زیادہ،مگر انجام زیرو۔
ایف آئی اے کا آئندہ کا اعلان،یا پھر ایک اور دعویٰ؟
ادارہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسمگلرز کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سزا دلوائی جائے گی اور بین الاقوامی ایجنٹوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا۔
مگر سوال وہی ہے کہ 667 گرفتاریاں ، 1 ارب 99 کروڑ کی ریکوری ،سزا صفر ہے؟
آخر غلطی کہاں ہے،تفتیش میں، نظام میں، یا نیت میں ہے۔؟