Screenshot_2026_0108_142248

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) میں ترقیوں کے معاملے پر ایک سنگین آئینی و قانونی بحران جنم لے چکا ہے، جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح اور دوٹوک فیصلے کے باوجود تاحال عمل درآمد نہ ہونا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ 30 ستمبر 2025 کو جاری ہونے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کو دانستہ طور پر سرد خانے کی نذر کیے جانے پر ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عدالتی فیصلے کی روشنی میں وہ افسران جو اگست 2015 میں انسپکٹر (BPS-16) کے عہدے پر ترقی کے حقدار تھے، بادی النظر میں 2021 تک اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور اب ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچنے کے اہل ہو چکے تھے، تاہم محکماتی رکاوٹوں اور مبینہ انتظامی سرد مہری کے باعث ان کا حق سلب کیا جا رہا ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی گزشتہ برس اپریل میں تعیناتی کے بعد افسران و اہلکاروں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ برسوں سے لٹکے ہوئے ترقیوں کے معاملات اور انتظامی مسائل حل ہوں گے، تاہم ابتدائی دس ماہ میں صورتحال اس کے برعکس نظر آئی۔
ذرائع کے مطابق کراچی جیسے بڑے اور حساس زون سمیت متعدد علاقوں میں ڈی جی ایف آئی اے نے کھلی کچہری یا دربار منعقد نہیں کیا، جہاں افسران و اہلکار براہِ راست اپنے مسائل بیان کر سکتے۔
اس کے برعکس، انہی دس ماہ کے دوران اردلی بنیادوں پر افسران و اہلکاروں کے خلاف مبینہ یک طرفہ کارروائیاں کی گئیں، جن میں برطرفیاں، عہدوں میں تنزلی اور جرمانے شامل ہیں، جبکہ انہی کارروائیوں کی زد میں آنے والے ڈیپوٹیشن افسران اور پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے افسران کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کیا گیا۔

یہ امتیازی طرزِ عمل نہ صرف ادارے کے اندر بے چینی کا باعث بنا بلکہ 2025 میں ایف آئی اے کی مجموعی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایف آئی اے کے چار سب انسپکٹرز کی جانب سے دائر سول پٹیشنز منظور کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا 26 جنوری 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ جس میں عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا کہ درخواست گزار افسران کو انسپکٹر (BPS-16) کے عہدے پر ترقی اگست 2015 سے تصور کی جائے۔
یہ فیصلہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے تحریر کیا، جبکہ بینچ میں جسٹس عقیل احمد عباسی بھی شامل تھے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اگست 2015 میں انسپکٹر کی 25 آسامیاں خالی تھیں اور وہ سینیارٹی و اہلیت کے لحاظ سے ترقی کے حقدار تھے، تاہم سینیارٹی لسٹ کے تنازع کے باعث عدالتی حکمِ امتناعی جاری ہوئے جس کی وجہ سے ڈی پی سی اجلاس منعقد نہ ہو سکا۔

عدالت کے سامنے یہ امر تسلیم شدہ تھا کہ تاخیر درخواست گزاروں کی کسی کوتاہی کا نتیجہ نہیں تھی۔ 10 اکتوبر 2017 کو منعقد ہونے والی ڈی پی سی میں 42 آسامیاں پُر کی گئیں، جن میں چاروں درخواست گزار ابتدائی 25 امیدواروں میں شامل تھے۔

عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ اگر ڈی پی سی بروقت 2015 میں منعقد ہوتی تو یہ افسران بلا شبہ اسی وقت ترقی پا چکے ہوتے۔

سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں انتہائی اہم آئینی اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا کہ جیسے ہی اسامی خالی ہوتی ہے اور ملازم اہلیت پر پورا اترتا ہو، ترقی کا حق اسی لمحے پیدا ہو جاتا ہے۔انتظامی نااہلی، اندرونی تنازعات یا تاخیری حربے کسی سرکاری ملازم کے بنیادی حق کو سلب نہیں کر سکتے۔
محکمے کی اپنی غلطیوں کا بوجھ بے قصور افسران پر ڈالنا آئینی انصاف کے منافی ہے۔خالی آسامیوں کو بروقت پُر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 4، 25 اور 27 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے خبردار کیا کہ اگر ایسی تاخیر کو جائز قرار دیا گیا تو سرکاری ملازمین پوری سروس کے دوران ترقی سے محروم رہ سکتے ہیں، جو ریاستی انصاف کے تصور کے خلاف ہے۔

یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک مضبوط نظیر بن چکا ہے، تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ افسران اس وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے کے اہل ہو چکے ہیں، مگر محکمانہ رکاوٹیں ان کے راستے میں دیوار بنی ہوئی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر مزید تاخیر کی گئی تو یہ معاملہ براہِ راست توہینِ عدالت کی کارروائی کی طرف جا سکتا ہے، جس کی ذمہ داری براہِ راست اعلیٰ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔