جامعہ کراچی کی تاریخ میں پہلی بار اراضی کے تحفظ کے نام پر بلایا گیا سینڈیکیٹ کا خصوصی اجلاس شدید تنازعات کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ پس پردہ حقائق اور مشکوک کرداروں کی موجودگی نے اس اجلاس کو شکوک و شبہات میں گھیر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اجلاس واقعی زمین کے تحفظ کے لیے ہے یا قبضہ مافیا کے لیے نیا راستہ ہموار کرنے کی خفیہ تیاری ہے۔؟

سینڈیکیٹ کی خصوصی نشستوں پر آنے والے چند اراکین خود زمینوں پر قبضے میں ملوث اور مشکوک کردار قرار دیے جا چکے ہیں۔جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے واچ اینڈ وارڈ کی نگرانی کم کر دی جس سے قبضہ مافیا کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔
جولائی 2025 میں جامعہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے زمینیں کمرشل بنیادوں پر ٹھیکے پر دینے کا اعلان کیا، جسے بعد ازاں چیف سیکرٹری سندھ نے منسوخ کر دیا۔سینڈیکیٹ رکن صاحبزادہ معظم قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے بولی کے عمل میں مبینہ طور پر خلافِ ضابطہ وصولیاں شروع کیں۔کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA) نے بھی جامعہ کی زمین پر دعویٰ کیا لیکن طلبہ و اساتذہ کے احتجاج کے بعد پسپا ہونا پڑا۔
ذرائع نے سازش کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 08 ستمبر کو ہونے والا یہ اجلاس کسی بڑے فیصلے کی آڑ میں ایسی قانون سازی کی کوشش بن سکتا ہے جس سے زمینوں پر قبضے کو قانونی جواز مل جائے۔ موجودہ وائس چانسلر اور متنازعہ اراکین اپنی پوزیشن بچانے کے لیے مبینہ طور پر یہ کھیل کھیلنے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ماضی میں سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران آئی بی اے ،اہچ ای جے سمیت دیگر انسٹیٹیوشنز اور بینکوں کے لئے زمین مختص کرنے کی منظوری دی جاتی رہی ہے جبکہ زمینوں پر قبضے کے خلاف واچ اینڈ وارڈ کی سرویلنس کو بڑھانے اور قانون نافز کرنے والے اداروں کی مدد سے فوری قبضہ واگزار کرایا جاتا رہا ہے حالیہ دنوں میں زمینوں پر قبضے کی کوششوں میں پس پردہ وہ ہی قوتیں ملوث ہیں جو گزشتہ 10 برس سے جامعہ کراچی کے اہم امور میں اثر ورسوخ رکھنے والوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا جامعہ کراچی اپنی زمین کو قبضہ مافیا سے بچانے کے لیے لڑے گی یا اس اجلاس کے ذریعے قومی اثاثے کو لُٹنے کے لیے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔؟