Screenshot_2025_0502_180320

ایف آئی اے نے وفاقی دارالحکومت میں اربوں روپے مالیت کی زمینوں اور پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے انکشاف پر فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائزڈ ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ایچ اے)کے ڈپٹی ڈائریکٹر رانا محمد منیر سمیت 6 افراد کو حفاظتی ضمانت مسترد ہونے پر عدالت کے احاطے سے گرفتار کر لیا ہے ان کے خلاف مقدمہ نمبر 24/2025 م 27 مئی 2025 درج کیا گیا تھا، جس میں دفعات 109، 409، 420، 468، 471 تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2)47 شامل کی گئی ہیں۔

اس مقدمے میں ڈپٹی ڈائریکٹر رانا محمد منیر کے ساتھ ساتھ مبینہ جعلی بینیفشریز سید عابد علی شاہ ولد احمد شاہ، ملک محمد عمران ولد محمد اشرف، عماد احمد ولد اشتیاق احمد، سعد احمد ولد اشتیاق احمد اور اشتیاق احمد ولد راجہ لال خان شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق، معاملہ موضع تھلہ سیداں (جی-14/3) کے بلٹ اپ پراپرٹیز (BUPs) کے ضمنی ایوارڈ سے جڑا ہے، جو 20 مارچ 2017 کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کی دفعہ 11 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔

اس ایوارڈ کے تحت شکایت گزار غلام فاطمہ زوجہ عبدالرشید (مرحوم) اور ان کے خاندان کے کل 12 بلٹ اپ پراپرٹیز رجسٹرڈ تھے جن کے نمبر یہ ہیں: 994، 995، 996، 999، 1006، 1007، 997، 998، 1010، 988، 991 اور 1000۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ
BUPنمبر 997، 998، 1010، 988، 991، 994 اور 995 کے معاوضے (رقم اور پلاٹس) درست مالکان کو دیے گئے۔تاہم BUP نمبر 1000، 996، 999، 1006 اور 1007 کے معاوضے اصلی مالکان اور جعلی شریک مالکان دونوں کو بیک وقت دے دیے گئے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار افسران نے مبینہ طور پر نجی افراد کو جعلی شریک مالک ظاہر کر کے ایوارڈ میں شامل کیا، حالانکہ ان کا زمینوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس جعلسازی کے ذریعے وہ اصل مالکان کے ساتھ مل کر غیر قانونی طور پر معاوضہ اور پلاٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔