Screenshot_2025_0502_180320

ایف آئی اے میں قانون اور ضابطے کی دھجیاں اڑا دی گئیں، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے راجہ رفعت حسین مختیار اور زونل ڈائریکٹرز اپنے ہی احکامات پر عمل کرانے میں مکمل طور پر بے بس ہوگئے ہیں۔ ڈیپوٹیشن کی مدت پوری کرنے والے پولیس افسران کھلے عام ادارے کے فیصلوں کو چیلنج کر رہے ہیں اور واپس اپنے محکمے جانے سے انکار کر کے ایف آئی اے کو اپنی ذاتی چراگاہ بنا چکے ہیں۔

باوثوق ذرائع کے مطابق حیران کن صورتحال یہ ہے کہ جن افسران کی واپسی کے احکامات اور لیٹرز جاری ہوچکے، وہی افسران نہ صرف اپنی کرسیوں پر قابض ہیں بلکہ ڈی جی ایف آئی اے اور زونل ڈائریکٹرز کے احکامات کو منہ پر ٹھکرا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر گریڈ 16 کے عام افسر میں ایسی کیا خصوصی طاقت ہے کہ وہ ایف آئی اے کے سربراہ کے حکم کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دے؟

ان افسران کے خلاف سنگین ریکارڈ موجود ہے، کیسز خراب کرنے اور حساس انکوائریاں سرد خانے میں ڈالنے کے ثبوت ادارے کے پاس ہیں، مگر اس کے باوجود ان پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں۔ آخر یہ افسران کس کے سائے تلے اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ ایف آئی اے جیسے حساس ادارے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے؟ کیا ڈی جی ایف آئی اے اور زونل ڈائریکٹرز واقعی ادارے کی قیادت کر رہے ہیں یا صرف کاغذی احکامات جاری کرنے تک محدود ہیں؟

دوسری جانب ڈی جی ایف آئی اے کے قریبی حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ پالیسی کے تحت تین سال سے زائد ایک زون میں بیٹھے افسران کا تبادلہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ 80 فیصد افسران کے تبادلے بھی ہوئے اور کئی کو صوبوں سے باہر بھی بھیجا گیا۔ مگر یہ کڑوا سچ سامنے آیا ہے کہ خود ڈی جی ایف آئی اے کی منظوری سے ہونے والے تبادلوں کو بھی بعض اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے جوتے کی نوک پر رکھا اور اپنے دفاتر میں بدستور بیٹھے ہیں۔

مزید شرمناک امر یہ ہے کہ یہ باغی افسران پرانی انکوائریوں پر نوٹس جاری کر کے نہ صرف لوگوں کو ہراساں کر رہے ہیں بلکہ ایف آئی اے کی ساکھ کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے یہ سوال مزید شدت سے اٹھا دیا ہے کہ ایف آئی اے کو چلانے والا اصل میں کون ہے؟ ڈی جی ایف آئی اے یا وہ بااثر افسران جو اپنے محکمے میں واپس جانے سے انکار کر کے پورے ادارے کو یرغمال بنا چکے ہیں؟