Screenshot_2025_0709_042642

جامعہ کراچی کی قیمتی اراضی پر قبضے کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ شیخ الجامعہ خالد عراقی کی سربراہی میں ہونے والے حالیہ سینڈیکیٹ اجلاس میں زمینوں کے تحفظ کے دعوے تو کیے گئے مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی اجلاس میں تشکیل دی جانے والی کمیٹی میں وہی افراد شامل کیے گئے جو نہ صرف وائس چانسلر کے منظورِ نظر ہیں بلکہ بااثر بیوروکریسی تک پہنچنے کا ذریعہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ یہی افسران ماضی میں قانونی لبادے کی آڑ میں جامعہ کی زمینیں من پسند افراد کو بانٹتے رہے ہیں۔

اس کی واضح مثال گزشتہ برس گیٹ نمبر 2 کے قریب پیٹرول پمپ کی ملکیت کا کیس ہے، جس میں سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا۔ اس مقدمے میں جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر فنانس اور لیگل ایڈوائزر نے مبینہ طور پر اہم دستاویزات عدالت سے چھپا لیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جامعہ کو کیس ہارنا پڑا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جامعہ کو اس پٹرول پمپ سے محض دو لاکھ روپے ماہانہ آمدنی ہو رہی ہے، جبکہ بجلی کی فراہمی کے بلوں کی مد میں جامعہ کو 60 سے 90 لاکھ روپے ماہانہ تک ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ کھلا تضاد نہ صرف بدانتظامی بلکہ قومی وسائل کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔

 

گزشتہ پیر کو وائس چانسلر خالد عراقی کی سربراہی میں سینڈیکیٹ اجلاس ہوا، جس میں اراکین نے جامعہ کراچی کی زمینوں کے تحفظ کی قسم کھائی اور پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ لیکن کمیٹی کی ساخت پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

اس کمیٹی میں شامل سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر وہی ہیں جن کے دور میں "سینٹرل کیفے ٹیریا” کا متنازعہ کنٹریکٹ دیا گیا، جس سے جامعہ کو کرائے کی مد میں کم وصولی اور بجلی، گیس، پانی کے بلوں میں زیادہ ادائیگی کرنا پڑی۔

کمیٹی میں شامل رکن اور سابق کمشنر کراچی ڈاکٹر شعیب احمد صدیقی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر خالد عراقی کو طاقتور بیوروکریسی سے جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں سندھ حکومت بھی ان کے خلاف کارروائی سے گریز کرتی ہے۔

کمیٹی کے رکن ناظم مالیات سید جہانزیب، جو آئی بی اے سے جامعہ کراچی آئے، وائس چانسلر کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے لیے 20 گریڈ میں اعلیٰ ترین اسکیل کی تنخواہ منظور کی گئی اور جامعہ کی رہائش گاہ کو غیر قانونی طور پر پرکشش بنایا گیا۔ اصول یہ ہے کہ تین لاکھ سے زائد مرمت کے اخراجات ٹینڈر اور سینڈیکیٹ کی منظوری سے ہوتے ہیں، مگر ان کے گھر پر یہ ضابطہ نظرانداز کر دیا گیا۔

ڈائریکٹر لیگل آصف مختار پر بھی سنگین الزامات ہیں کہ انہوں نے جامعہ کی زمینوں پر قبضے کے حوالے سے اہم قانونی دستاویزات کو مسلسل چھپایا، جس سے قبضہ مافیا کو تقویت ملی۔

 

جامعہ کراچی کی اراضی پر سب سے متنازعہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب آج سے ٹھیک 17 برس قبل 12 ستمبر 2008 کو جامعہ انتظامیہ نے ڈائریکٹر فنانس ایس ایم خالد کے ذریعے ایک شہری محمد رضوان الرحمان کو 30 سال کے لیے 1976 مربع گز زمین پر لیز دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ لیز صرف ایک لاکھ روپے ماہانہ کرایے پر دی گئی۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق کرایہ ہر تین سال بعد صرف 10 فیصد بڑھے گا، جو تعلیمی ادارے کے مالی مفاد کے خلاف کھلا وار ہے۔

مزید انکشاف یہ ہے کہ یہ معاہدہ پرانے عدالتی تنازعات ختم کرنے کے نام پر کیا گیا۔ عوامی فلنگ اسٹیشن کے مالک کے انتقال کے بعد جامعہ اور ورثاء کے درمیان مقدمات زیرِ سماعت تھے، جنہیں ختم کرنے کے بدلے میں یہ زمین لیز پر دے دی گئی۔ معاہدے کے مطابق اگر پرانا پٹرول پمپ خالی نہ کیا گیا تو صرف ایک ہزار روپے یومیہ جرمانہ عائد ہوگا، جو زمین کی اصل قدر کے مقابلے میں انتہائی معمولی ہے۔

قانونی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے جس کے مطابق سرکاری زمین کو کمرشل بنیاد پر دینے کے لیے نیلامی اور شفاف طریقہ کار لازمی ہے۔ لیکن جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر لیگل، ناظم مالیات اور اسٹیٹ افسر نے نہ صرف یہ فیصلہ عدالت کے سامنے نہیں رکھا بلکہ زمین کی اصل پیمائش بھی چھپائی۔ حقیقت یہ ہے کہ جامعہ کی اس اراضی پر دستاویزات کے مطابق 1976 گز ہے لیکن قبضہ تین گنا زیادہ ہے اگر یہ حقائق عدالت میں آتے تو فیصلہ جامعہ کے حق میں جا سکتا تھا، مگر مبینہ لین دین نے قانون کو دفن کر دیا۔

سینڈیکیٹ نے زمینوں کی واگزاری کے لیے کمیٹی بنائی ہے، خدشہ یہ ہے کہ قانونی لبادے میں مزید زمینیں بھی قبضہ مافیا کے حوالے نہ کر دی جائیں۔ کیونکہ ماضی میں انہی چہروں نے جامعہ کو مالی نقصان پہنچایا اور زمینوں کی بندر بانٹ کی۔

ماہرین تعلیم اور شہری حلقوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ کراچی کے وسائل تعلیم اور تحقیق کے بجائے پٹرول پمپ ڈیلز میں جھونکنا قومی مفاد کے خلاف اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کی زمینیں قومی امانت ہیں اور انہیں اس طرح چند لاکھ روپے ماہانہ پر بانٹ دینا قومی وسائل کی ڈکیتی ہے۔

جامعہ کراچی جو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کا گہوارہ ہونا چاہیے تھا، آج اربوں روپے کی زمینوں کے مشکوک سودوں اور قبضہ مافیا کے شکنجے میں جکڑا جا رہا ہے۔ حیران کن انکشاف یہ ہے کہ قومی وسائل کے اس ادارے کی قیمتی اراضی محض ایک لاکھ روپے ماہانہ کرایے پر بااثر شخصیات کے حوالے کر دی گئی جبکہ جامعہ خود ہر ماہ نوّے لاکھ روپے کا نقصان اٹھا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سودے تعلیمی ادارے کے مفاد میں ہیں یا چند مخصوص افراد کی جیبیں بھرنے کے لیے ہے؟۔